سر کا سائز زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص کی نشاندہی کر سکتا ہے، سائنسدان

Spread the love

ماہرین کے مطابق آپ کے سر کا سائز تباہ کن اعصابی بیماری کے خطرے کی نشاندہی کر سکتا ہے اور یہ تعین کرسکتا ہے کہ آیا آپ کو زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوگی یا نہیں۔

اس حوالے سے امریکی ریاست ٹیکساس میں سائنسدانوں نے امریکا بھر کی تقریباً 700 عمر رسیدہ راہباؤں (نن) کی صحت سے متعلق تین دہائیوں پر محیط اعداد و شمار اور دماغی پوسٹ مارٹم کا جائزہ لیا۔

ان تمام راہباؤں کی طرز زندگی، آمدنی، رہن سہن یکساں اور انکی عمریں 75 سے 102 سال کے درمیان جبکہ اوسط عمر 83 سال  تھی۔ یہ سب صحت مند غذا، مضبوط سماجی تعلق کے علاوہ شراب اور سگریٹ نوشی جیسے نقصان دہ عوامل سے دور تھیں۔ 

اس کے باوجود ان میں سے تقریباً 17 فیصد اپنی زندگی کے آخری حصے میں ڈیمنشیا (دماغی افعال کی کمزوری اور نسیان کی بیماری) کا شکار ہو گئیں۔ ان تمام نے اپنی موت کے بعد اپنے دماغ تحقیق کے لیے عطیہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر کی تعلیمی سطح بھی یکساں تھیں۔

اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کو پتہ چلا کہ وہ راہبائیں جن کی تعلیمی سطح کم اور جن کے سروں کی گولائی کی پیمائش کم تھی وہ اپنی ان ہم عمر راہباؤں کے مقابلے میں جن کی تعلیمی قابلیت زیادہ اور جن کے سروں کا سائز بڑا تھا، ان میں ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات چار گنا زیادہ تھے۔

ماہرین کو یقین ہے کہ سر اور دماغ کا چھوٹا ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان کے پاس دماغی خلیات (برین سیلز) کی تعداد کم ہوتی ہے۔ اس لیے جب عمر کے ساتھ یہ خلیات متاثر ہوتے ہیں اور ڈیمینشیا کی ابتدائی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو دماغ کے پاس اعصابی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے حفاظتی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔

کم تعلیم کا تعلق طویل عرصے سے ڈیمنشیا سے جوڑا جاتا رہا ہے، کیونکہ سیکھنے کا عمل دماغی خلیات کے درمیان روابط کو مضبوط کرتا ہے اور صحت مند عادات اپنانے کے امکانات بڑھاتا ہے۔

جبکہ سر اور دماغ کی زیادہ تر نشوونما زندگی کی ابتدا (بچپن) میں ہوتی ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ ڈیمنشیا سے بچاؤ کی شروعات علامات ظاہر ہونے سے بہت پہلے ہو جاتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ذہنی صحت اور ڈیمینشیا سے بچاؤ صرف بڑھاپے تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہے۔ڈیمینشیا یا بھولنے اور دماغی طور پر کمزوری کی بیماری میں مبتلا شرکاء میں ہپوکیمپس (انسانی دماغ کا وہ حصہ جو یاداشت اور سیکھنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے) بھی نسبتاً چھوٹا پایا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے