کینیڈا (پریس ریلیز) برامپٹن سپر لیگ کے عہدیداران طارق پرویز (بانی) اور فیصل مولیدینا ( ڈائریکٹر) نے برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد شعیب کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ محمد شعیب کو فوری طور پر بزنس ایمبیسیڈر فار ٹورزم کے عہدے سے ہٹایا جائے، اور محمد شعیب سے وابستہ کسی بھی ادارے کو جاری کیے گئے برامپٹن شہر کے تمام گراؤنڈ پرمٹس بلا تاخیر منسوخ کیے جائیں۔
یہ مطالبات محمد شعیب پر جعل سازی، جانبداری، فنڈز میں خردبرد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات کے بعد سامنے آئے ہیں۔
طارق پرویز اور فیصل مولیدینا نے کہا کہ ہمارا مقصد سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔ کرکٹ، کسی بھی ادارے کی طرح، شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ چلائی جانی چاہیے۔ جب سنگین خدشات سامنے آئیں تو انہیں نظرانداز نہیں بلکہ حل کیا جانا چاہیے۔”
اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی اعتماد کو نقصان ۔۔۔۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ محمد شعیب نے میئر پیٹرک براؤن کی جانب سے دیے گئے بزنس ایمبیسیڈر برائے ٹورزم کے عہدے اور برامپٹن سپر لیگ کے ڈائریکٹر کے منصب کا ناجائز استعمال کیا، جس کے باعث برامپٹن سٹی کونسل کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ان کے مطابق محمد شعیب ہر جگہ خود کو برامپٹن سٹی کونسل کا نمائندہ ظاہر کرتے رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ تمام اختیارات انہی کے پاس ہیں۔
گزشتہ روز منعقدہ پریس کانفرنس میں بی ایس ایل کے بانی طارق پرویز اورڈائریکٹر فیصل مولیدینا نے میڈیا کو بتایا کہ محمد شعیب نے بغیر کسی قانونی اجلاس کے انہیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا اور اپنی اہلیہ الیزا کو بطور ڈائریکٹر مقرر کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ محمد شعیب نے بی ایس ایل کو ایک منظم ادارے کے بجائے کسی واٹس ایپ گروپ کی طرح چلایا، جہاں من مانی تقرریاں اور برطرفیاں کی جاتی رہیں۔ ان الزامات کے ثبوت عوام کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔بی ایس ایل کے ڈائریکٹر فیصل مولیدینا نے کہا ہم میئر پیٹرک براؤن اور برامپٹن سٹی کونسل سے ایک منصفانہ، غیر جانبدار اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ کھلاڑی، ٹیمیں، اسپانسرز اور پوری کمیونٹی وضاحت، جوابات اور ذمہ دار قیادت کی حق دارہیں ۔منتظمین نے بتایا کہ محمد شعیب کو وکیل کے ذریعے قانونی نوٹس بھجوا دیا گیا ہے، جس میں برامپٹن سپر لیگ (جسے “کارپوریشن” کہا جاتا ہے) کے ڈائریکٹرز کی غیر مجاز برطرفی، غلط فائلنگز اور کارپوریٹ فنڈز کے غلط استعمال پر اعتراض کیا گیا ہے۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ کارپوریشن ایک وفاقی نان پرافٹ، نان شیئر کیپیٹل کارپوریشن ہے جو کینیڈا ناٹ فار پرافٹ کارپوریشنز ایکٹ (CNCA) کے تحت اپنے آرٹیکلز اور بائی لاز کے مطابق چلائی جاتی ہے۔کارپوریشن میں کوئی شیئرز نہیں ہوتے اور تمام اختیارات صرف باقاعدہ بلائے گئے ممبران کے اجلاسوں اور قانونی بورڈ فیصلوں سے حاصل ہوتے ہیں۔فیصل مولیدینا نے کہا کہ محمد شعیب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 فروری 2026 شام 5:00 بجے تک متنازعہ فنڈز کی مکمل رقم 39,181 ڈالر فوری طور پر کارپوریشن کو واپس کریں، بصورتِ دیگر ایک تحریری منصوبہ پیش کریں جس میں ہر متنازعہ ٹرانزیکشن کے لیے قانونی اجازت کے ثبوت شامل ہوں۔
طارق پرویز نے مزید کہا کہ محمد شعیب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بی ایس ایل کے اپنے قبضے، تحویل یا کنٹرول میں موجود تمام کارپوریٹ املاک فوری طور پر واپس کریں۔
طارق پرویز اور فیصل مولیدینا نے بتایا کہ انہوں نے میئر پیٹرک براؤن سے بھی وکیل کے ذریعے اپیل کی ہے کہ محمد شعیب سے وابستہ اداروں کو دیے گئے تمام برامپٹن سٹی گراؤنڈز فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ 24 سے زائد کرکٹ ٹیموں نے بھی قانونی طور پر مطالبہ کیا ہے کہ 2026 کے کرکٹ سیزن کے لیے برامپٹن شہر کے گراؤنڈز انہیں الاٹ کیے جائیں۔
اس موقع پر مصالحتی اراکین یوسف جرمن نے بتایا کہ میں نے محمد شعیب کو زاتی طور پر یہ دعوت دی تھی کہ وہ پریس کانفرس میں شامل ہوکر میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے سامنے بیٹھکر ان پر لگائے گئے الزامات پر اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں جس پر انہوں نے شرکت سے انکار کردیا ۔ انہوں نے مزید صحافیوں کے سامنے بتایا کہ میں نے ہرممکن کوشش کی کہ ان تمام معاملات کو افہام وتفہیم سے حل کیا جائے تو محمد شعیب نے تمام معاملات کو حل کرنے کی یقینی دہانی کے باوجود انکار کردیا
پریس کانفرس کے اختتام پر فیصل مولیدینا نے محمد شعیب کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ محمد شعیب کسی بھی میڈیا، کسی بھی پلیٹ فارم پر آ کر ہم سے مناظرہ کر سکتے ہیں۔ ہم ہر جگہ ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ آخری پریس کانفرنس نہیں—یہ تو صرف آغاز ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید اہم دستاویزات منظرِ عام پر آئیں گی اور قانونی کارروائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
بی ایس ایل کے عہدیداران کا برامپٹن کے میئر پیٹرک براؤن سے محمد شعیب کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ
