کینیڈا ( محبوب شیخ)کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمیشن (اوٹاوا) اور ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل خانہ جات میں یکجہتی کشمیر منایا گیا، جس کا مقصد بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJ&K) کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کی حقِ خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت کرنا تھا، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق ہے۔ اس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کے افراد کے علاوہ پاکستان اور مسئلۂ کشمیر سے ہمدردی رکھنے والے دوستوں نے بھی شرکت کی۔تقریب کے دوران صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم پاکستان اور نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ پاکستان کے خصوصی پیغامات سامعین کو پڑھ کر سنائے گئے۔ علاوہ ازیں کشمیری عوام کی جدوجہد پر مبنی دستاویزی فلمیں دکھائی گئیں اور انہیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ مقامی الیکٹرانک اور نسلی ذرائع ابلاغ پر نشر بھی کیا گیا۔ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کی حالتِ زار کو اجاگر کرنے والا معلوماتی مواد بھی شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔ اس سلسلے میں تصویری نمائش، میڈیا سے گفتگو اور مختلف پروگرامز کا انعقاد کیا گیا تاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے اور کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر پاکستان، محمد سلیم نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل اور شدید ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں ماورائے عدالت قتل، بلاجواز گرفتاریاں، مواصلاتی بندشیں اور جبری آبادیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کشمیری عوام کی استقامت، جرات اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جو وہ طویل اور صبر آزما حالات کے باوجود ثابت قدمی سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ہائی کمشنر نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ مسئلۂ جموں و کشمیر کا پُرامن، منصفانہ اور دیرپا حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق آزادانہ اور شفاف رائے شماری کے انعقاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انصاف اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ ہائی کمشنر نے بین الاقوامی قانون کی پاسداری، انسانی حقوق کے احترام اور مسئلۂ جموں و کشمیر کے منصفانہ، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے بھارت پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالنے کی اپیل بھی دہرائی۔

