کینیڈا ( رپورٹ مجبوب علی شیخ ) کینیڈا کے وفاقی وزیرِ خزانہ و قومی محصولات فِلپ شیمپین نے کینیڈین کمیونٹیز کو بھتہ خوری جیسے دہشت زدہ کرنے والے منظم جرائم پیشہ گروہوں کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بہت ہو چکا ہے۔بھتہ خوری میں ملوث افراد سن لیں کہ کینیڈا میں اس طرز کے جرائم میں ملوث لوگوں کو سخت ترین سزا دی جائیگی کیونکہ بھتہ خوری اب محض سڑکوں پر ہونے والا انفرادی جرم نہیں رہا بلکہ ایک منظم اور پیچیدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کینیڈا کی معاشی سالمیت اور سماجی ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے۔گزشتہ روز کینیڈا کے شہر مس ازساگا میں وفاقی وزیرفلپ شیمپین نے کینیڈین وفاقی وزیربرائے بین الاقوامی تجارت منیندر سدھو، وزیرِ برائے خواتین و صنفی مساوات اور سیکریٹری آف اسٹیٹ (چھوٹے کاروبار اور سیاحت) ریچی ویلڈیز، صدرِ ٹریژری بورڈشفقت علی،کینیڈین رکن پارلیمنٹرین اقرا ء خالد ، فارس السعود ، امن دیپ سدھو ، پیٹر فونسکا ، سونیا سدھو ، میئر مس از ساگ کیرولین پیرش، پیل ریجنل پولیس کے ڈپٹی چیف نک میلینووچ، اور
ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، فنانشل ٹرانزیکشنز اینڈ رپورٹس سارہ پاکیٹ کے ہمراہ پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
انہوں نے کہا کہ بہت سے کینیڈین افراد اور کاروباروں کے لیے بھتہ خوری روزمرہ زندگی کی حقیقت بن چکی ہے۔ یہ خوف اب ختم ہوگا اور بھتہ خوری کے بحران سے نمٹنے کے لیے ‘فالو دی منی’ منصوبہ تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برامپٹن ، مسی ساگا اور سرے جیسے شہروں میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافے کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ایک غیر معمولی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی مالی شہ رگ کو نشانہ بنا کر انہیں توڑنا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نئے منصوبے کا مرکزی نکتہ کینیڈا کے قومی مالیاتی انٹیلی جنس ادارے فنانشل ٹرانزیکشنز اینڈ رپورٹس اینالیسس سینٹر آف کینیڈا (FINTRAC) کو متحرک کرنا ہے۔ پہلی مرتبہ FINTRAC خصوصی رابطہ افسران کو تعینات کرے گا جو اونٹاریو، برٹش کولمبیا اور البرٹا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پولیس کے ساتھ براہِ راست کام کریں گے۔
شیمپین نے کہا کہ کینیڈین شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھروں میں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم سے نمٹنے کے لیے نئے اوزار فراہم کر رہے ہیں۔پیل ریجن پولیس کے ڈپٹی چیف آف انویسٹی گیشنز اینڈ ایمرجنسی سروسز نک میلینووچ نے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 490 بھتہ خوری سے متعلق جرائم رپورٹ ہوئے۔ اگرچہ 2025 میں مجموعی واقعات میں معمولی کمی آئی ہے، مگر اس سال اب تک تقریباً 200 کاروباروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا کے شہر برامپٹن اور مسی ساگا میں بھتہ خوری بہت سے کاروباری افراد، خصوصاً جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لیے روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ مجرم اکثر بڑی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں؛ انکار کی صورت میں دھمکیاں، توڑ پھوڑ، اور بعض اوقات گھروں اور دکانوں پر فائرنگ جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سرے میں حکام نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے کہ مبینہ طور پر غیر ملکی طلبہ کو منظم جرائم پیشہ گروہوں کے لیے دھمکی آمیز کارروائیاں انجام دینے کے لیے بھرتی کیا جا رہا ہے۔ مقامی پولیس نے پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں ویڈیوز جاری کر کے نوجوانوں کو اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہےکینیڈین وفاقی وزراء نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی ایجنسیاں، صوبائی حکام، مالیاتی ادارے اور بلدیاتی پولیس فورسز کے ساتھ ایک مربوط نظام بنایا گیا ہے جسکے تحت بھتہ خوروں اور منظم جرائم کے خلاف وسیع تر حکمتِ عملی بنائی گئی ہے نئے کینیڈا فنانشل کرائمز ایجنسی کے قیام کے منصوبے اور RCMP کی تفتیشی صلاحیت بڑھانے کے لیے اضافی سرمایہ کاری کو شامل کیا گیا ہے
انہوں نے بتایا کہ یہ حکمتِ عملی اس اصول پر مبنی ہے جسے حکام “فالو دی منی” یعنی رقم کے بہاؤ کا سراغ لگانا قرار دیتے ہیں۔ مالیاتی انٹیلی جنس کے حصول اور تبادلے کو مضبوط بنا کر حکام ان نیٹ ورکس کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جو بھتہ خوری کی کارروائیوں کو مالی معاونت فراہم کرتے اور منظم کرتے ہیں — جن میں سے بہت سے سرحد پار کام کرتے ہیں اور لین دین چھپانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے FINTRAC کے تحت کیے جانے والے نئے اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ :
بھتہ خوری کے خلاف مالیاتی انٹیلی جنس وسائل میں اضافہ کیا کریگا ۔
بینکوں، کریڈٹ یونینز، کرپٹو کرنسی سروس فراہم کنندگان اور آفس آف دی سپرنٹنڈنٹ آف فنانشل انسٹی ٹیوشنز جیسے ریگولیٹرز کے ساتھ “کاؤنٹرنگ ایکسٹورشن پارٹنرشپ” کا آغاز کریگا۔
رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) اور مقامی پولیس سروسز کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا۔
تحقیقات میں مدد کے لیے مالیاتی انٹیلی جنس ماہرین تعینات کرے گا۔
مالیاتی اداروں کو مشتبہ لین دین کی فوری شناخت کے لیے “ٹارگٹڈ انڈیکیٹر پروفائل (TIP)” جاری کرے گا۔
اسٹریٹجک انٹیلی جنس شائع کرے گا جس میں بتایا جائے گا کہ مجرم بھتہ خوری سے حاصل شدہ رقم کو کیسے منی لانڈر کرتے ہیں۔
پیل ریجن پولیس کے ڈپٹی چیف آف انویسٹی گیشنز اینڈ ایمرجنسی سروسز نک میلینووچ کے مطابق رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گولیوں کی آواز اب تشویشناک حد تک عام ہو چکی ہے۔ بعض متاثرین انتقامی کارروائی کے خوف یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثریت پر شکوک کی وجہ سے واقعات رپورٹ نہیں کرتے۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات منظم جرائم کے خلاف وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن میں نئے کینیڈا فنانشل کرائمز ایجنسی کے قیام کے منصوبے اور RCMP کی تفتیشی صلاحیت بڑھانے کے لیے اضافی سرمایہ کاری شامل ہے۔واضح رہے کہ بلدیاتی قیادت یعنی برامپٹن شہر کے مئیر پیٹرک براؤن اور سرے کی مئیر نے وافاقی حکومت سے گزشتہ ماہ وفاقی حکومت سے مضبوط مداخلت کا مطالبہ کر چکے ہیں اور اس بھتہ خوری کے واقعات میں ہونے والے تشدد کو عوامی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے ایک بحران قرار دیتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مالیاتی کریک ڈاؤن متاثرہ کمیونٹیز کو فوری ریلیف فراہم کر پائے گا یا نہیں۔ تاہم اوٹاوا کا پیغام واضح ہے: رقم کے بہاؤ کو روک کر حکومت خوف سے فائدہ اٹھانے والے نیٹ ورکس کو توڑنے کا عزم رکھتی ہے جبکہ برامپٹن ، مس از ساگا، سرے اور دیگر علاقوں کے رہائشیوں کے لیے امید یہی ہے کہ یہ اقدام پُرامن راتوں کی شروعات اور منظم جرائم کی مسلط کردہ خاموشی کے خاتمے کا سبب بنے گا
“اب بہت ہو چکا”: کینیڈا نے بھتہ خوری کے بحران سے نمٹنے کے لیے ‘فالو دی منی’ منصوبہ متعارف کرا دیا
