انسانی فطرت کے تضادات نے ایک بار پھر خبروں کی زینت بنائی ہے۔ جہاں انسان صدیوں کی تحقیق اور محنت سے مہلک بیماریوں جیسے طاعون، چیچک اور ہیضہ کے علاج دریافت کر کے انسانی زندگی کو محفوظ بنا رہا ہے، وہیں انسانی وسائل اور ٹیکنالوجی جنگ اور مہلک ہتھیار بنانے میں بھی صرف ہو رہی ہے جو لمحوں میں ہزاروں جانیں نگل سکتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ یہ تضاد زندگی اور موت کے کھیل میں انسانی وسائل اور جذبات کی ہولناک بربادی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انسان، جو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے دوسری مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، کبھی اپنی تخلیقی محنت سے دنیا کو سنوارتا ہے اور کبھی اسے تباہ کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
حال ہی میں غزہ میں اسرائیل اور امریکہ کے اتحاد نے 60 ہزار سے زائد نہتے فلسطینی شہریوں کی جانیں نگل کر انسانییت کے برے ترین مظاہر دکھائے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بے رحمی نہ صرف انسانی اخلاقیات کے لیے شرمناک ہے بلکہ اس سے مغربی ممالک کی سیاسی اور اخلاقی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اسرائیل، جو خوف اور عسکری قوت کے سائے میں قائم ہے، مستقبل میں تنہا پڑ سکتا ہے اور اس کی موجودہ پوزیشن مزید غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کی امریکی قیادت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ نیتن یاہو بدعنوانی کے الزامات کے باعث سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانیت کی بقا کے لیے علاج، تحقیق اور امن کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، ورنہ ہتھیار اور جنگ کی دوڑ انسانی معاشرے کو مزید بربادی کی طرف لے جائے گی۔
