امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے چین، بھارت، بنگلا دیش اور دیگر 16 بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ امکان ہے کہ ان تحقیقات کے نتیجے میں موسم گرما تک نئے درآمدی ٹیرفز عائد کیے جا سکتے ہیں۔امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر کے مطابق یہ تحقیقات ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کے تحت کی جا رہی ہیں، جو امریکا کو غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کے خلاف جوابی اقدامات اور ٹیرف لگانے کا اختیار دیتی ہے۔تحقیقات کی زد میں آنے والے ممالک میں چین، یورپی یونین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو، تائیوان، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلا دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ تاہم، امریکا کا دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار کینیڈا اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔حکام کے مطابق، تحقیقات کا مقصد ان معیشتوں کا جائزہ لینا ہے جہاں صنعتی شعبوں میں ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت، مسلسل تجارتی سرپلس یا غیر استعمال شدہ صنعتی گنجائش پائی جاتی ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی علیحدہ تحقیقامریکا جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے لیے ایک علیحدہ تحقیق بھی شروع کرے گا، جس میں 60 سے زائد ممالک شامل ہوں گے۔یہ اقدام پہلے سے نافذ سنکیانگ خطے سے متعلق پابندیوں کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔ امریکا کا الزام ہے کہ چین کے سنکیانگ علاقے میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، تاہم بیجنگ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔یہ اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے عالمی ٹیرفز کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے عارضی طور پر 150 دن کے لیے 10 فیصد ٹیرف نافذ کیا۔حکام کا کہنا ہے کہ نئی تحقیقات کا مقصد تجارتی خسارہ کم کرنا، امریکی صنعت کا تحفظ کرنا اور تجارتی مذاکرات میں دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
امریکا کا چین اور بھارت سمیت 16 ممالک پر نئے ٹیرف لگانے کا عندیہ
