فرانس کے مرکزی بینک کے گورنر فرانسوا ویلروئے ڈی گالو نے خبردار کیا ہے کہ ملکی مالی حالات کے پیشِ نظر تیز بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے نئی سبسڈیز متعارف کرانا خطرناک ہو سکتا ہے۔گورنر نے کہا کہ فرانس کے پاس مزید وسائل موجود نہیں ہیں، اور اپوزیشن جماعتوں اور مزدور یونینز کی جانب سے ٹیکس میں کمی، ایندھن واؤچرز یا قیمتوں کی حد مقرر کرنے کے مطالبات ملکی بجٹ خسارے پر اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو اس وقت تقریباً 5 فیصد ہے۔ویلروئے ڈی گالو نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران ایندھن کی قیمتیں حال ہی میں دو یورو (2.3 ڈالر) فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہیں۔گورنر کے مطابق خطرہ یہ ہے کہ بجٹ خسارہ مزید بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں رہائشی اور کاروباری قرضوں کی ادائیگی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ قلیل مدتی سبسڈیز کے بجائے توانائی میں خود کفالت اور توانائی کی منتقلی میں سرمایہ کاری ہی طویل مدتی اور پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔مزید برآں، ویلروئے ڈی گالو نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع سے فرانسیسی معیشت پر دباؤ پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں افراطِ زر میں معمولی اضافہ اور معاشی ترقی کی رفتار میں سستی متوقع ہے۔ان کے اندازوں کے مطابق، فرانس کی پہلی سہ ماہی میں معاشی نمو 0.2 سے 0.3 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے، جبکہ 2026 میں مجموعی شرح نمو تقریباً 1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
فرانس کے پاس ایندھن کی نئی سبسڈی کیلئے مزید رقم موجود نہیں: مرکزی بینک کا انتباہ
