امریکا: سائنسدانوں نے ڈیمنشیا کے خطرے کی پیش گوئی 25 برس قبل کرنیوالا خون ٹیسٹ ڈیولپ کرلیا

Spread the love

امریکی سائنسدانوں نے خون کا ایک ایسا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو خواتین میں ڈیمنشیا یعنی ذہنی صلاحیتوں میں کمی اور یادداشت کی خرابی کے خطرے کی پیشگوئی علامات ظاہر ہونے سے تقریباً 25 سال پہلے کر سکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق دماغ میں الزائمر بیماری سے منسلک ایک خاص پروٹین کی زیادہ مقدار صحت مند خواتین میں مستقبل میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے خطرے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ یہ دریافت ڈاکٹروں کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے سے کئی دہائیاں پہلے ہی خطرے سے دوچار خواتین کی شناخت کر سکیں، جس سے ابتدائی نگرانی اور احتیاطی اقدامات ممکن ہو جائیں۔

تحقیقی ٹیم کے مرکزی مصنف اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سان ڈیگو کے پروفیسر علاوالدین شاداب نے کہا کہ طویل عرصے تک پیشگی نگرانی سے یادداشت کے مسائل کے روزمرہ زندگی پر اثر ڈالنے سے پہلے ہی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

یہ طریقہ کار موجودہ تشخیصی طریقوں سے مختلف ہے، کیونکہ آج زیادہ تر تشخیص اس وقت کی جاتی ہے جب یادداشت میں واضح کمی اور دیگر علامات پہلے ہی ظاہر ہو چکی ہوں۔

تحقیق میں 2,766 خواتین کو شامل کیا گیا، جن کی عمر 65 سے 79 سال کے درمیان تھی، اور یہ وومینز ہیلتھ اینیشیٹو میموری اسٹڈی کا حصہ تھیں۔ رپورٹ طبی جریدے جے اے ایم اے نیٹ ورک اوپن میں شائع ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے