ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا ایران پر حملوں کے لیے پڑوسی ممالک کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، جو ایران کے لیے ہرگز قابل قبول نہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کے ذریعے ایران پر حملے کیے اور یہ حملے ایران کے پڑوسی ممالک کی سرزمین سے کیے گئے۔ ان کے مطابق گزشتہ رات خارگ اور ابو موسیٰ جزائر پر جدید راکٹ سسٹمز سے حملے کیے گئے۔عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے حملوں کو ٹریک کیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ یہ حملے متحدہ عرب امارات کے علاقوں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب سے کیے گئے۔ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی ایندھن تنصیبات یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کا ردعمل واضح اور سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں ایرانی فورسز خطے میں امریکی یا اس سے متعلقہ ایندھن تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔انہوں نے اس بات کو خطرناک قرار دیا کہ گنجان آبادی والے علاقوں سے ایران پر حملے کیے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران جوابی کارروائی کرتے وقت شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے گریز کرے گا۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایران مضبوط اور مستحکم ہے اور صرف اپنے عوام کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مثبت تجربہ نہیں رہا، کیونکہ جب مذاکرات جاری تھے تو امریکا نے ایران پر حملہ کر دیا۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے حوالے سے متعدد ممالک نے ایران سے رابطہ بھی کیا ہے۔
واضح ہوگیا امریکا حملوں کیلئے ہمارے پڑوسیوں کی سرزمین استعمال کر رہا ہے، عباس عراقچی
