کراچی — ’نائن زیرو‘ سے شروع ہونے والا متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا سیاسی سفر آج اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کی عملی حیثیت تقریباً ختم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ 17 نشستیں رکھنے کے باوجود جماعت نہ متحد نظر آتی ہے اور نہ ہی مؤثر۔ ایک وقت تھا جب ایم کیو ایم شہری سندھ کی سب سے طاقتور نمائندہ جماعت سمجھی جاتی تھی، مگر اب وہ سیاست کی بند گلی میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری کی برطرفی اور اس پر پارٹی کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اہم پہلو یہ نہیں کہ وہ کس طرح اس منصب پر فائز ہوئے یا ہٹائے گئے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی رخصتی پر جماعت نے کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) کے نہال ہاشمی کی تقرری ہوئی ہے، جو ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار سیاستدان ہیں، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا وہ سندھ میں اپنی جماعت کو دوبارہ فعال کر پائیں گے یا نہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی بدستور سندھ میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور قیادت مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کی اصل طاقت اس وقت تک برقرار رہی جب تک اس کی مرکزی قیادت متحد رہی۔ تاہم وقت کے ساتھ اندرونی اختلافات، ریاستی مداخلت اور مختلف ادوار میں ہونے والے آپریشنز نے جماعت کو کمزور کیا۔ 1992 سے 2013 تک کئی فوجی اور نیم فوجی آپریشنز کے باوجود ’نائن زیرو‘ کی اہمیت برقرار رہی، مگر 2013 کے انتخابات اور بالخصوص 22 اگست 2016 کے واقعات نے جماعت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات میں اضافہ ہوا اور متعدد اہم رہنما، جن میں مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی، رضا ہارون اور دیگر شامل ہیں، جماعت سے الگ ہو گئے۔ بعد ازاں نئی سیاسی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا، جبکہ ایم کیو ایم خود مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی، جن میں بہادرآباد اور پی آئی بی گروپس نمایاں تھے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان تقسیموں کے پیچھے نہ صرف اندرونی عوامل بلکہ غیر سیاسی قوتوں کا بھی کردار رہا۔ 2016 کے بعد ایم کیو ایم (پاکستان) کا قیام، قیادت میں تبدیلیاں، اور پارٹی آئین میں ترامیم انتہائی تیزی سے عمل میں آئیں، جس نے جماعت کے ڈھانچے کو مزید متاثر کیا۔
ادھر صدر آصف علی زرداری کی کراچی کی سیاست میں گہری دلچسپی بھی ایک اہم عنصر کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ شہر کے سیاسی اور انتظامی معاملات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ماضی میں بھی مختلف سیاسی دھڑوں کو قریب لانے یا دور کرنے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وہ کراچی میں امن و امان کی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور پانی و ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان سیاسی تعاون یا اتحاد کا امکان موجود ہے، جبکہ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرنے کی پیشکش بھی زیر غور آ سکتی ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم ایک ایسے مقام پر کھڑی نظر آتی ہے جہاں وہ نہ اپنی شرائط منوا سکتی ہے اور نہ ہی مؤثر سیاسی مزاحمت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ جماعت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا وہ اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پا کر دوبارہ خود کو منظم کر پاتی ہے یا نہیں۔
