پوٹاشیم فالج کے خطرے کو 20، امراض قلب کو 24 فیصد تک کم کرسکتا ہے، ماہرین

Spread the love

ماہرین صحت کے مطابق پوٹاشیم ایک نہایت اہم معدنی جزو ہے جو انسانی جسم کے مختلف افعال کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ اس کی مناسب مقدار فالج کے خطرے کو تقریباً 20 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں بڑی تعداد میں افراد اس کی کمی کا شکار ہیں، جن میں سے بیشتر کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم کی کمی نہ صرف دل کے امراض اور فالج کے خطرات کو بڑھا سکتی ہے بلکہ اس کے باعث کئی ایسی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان علامات میں مزاج میں اداسی، چکر آنا اور قبض شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق پوٹاشیم کی کمی کی ایک بڑی وجہ غیر متوازن خوراک ہے، خصوصاً ایسی غذا جس میں الٹرا پراسیسڈ اشیاء اور نمک کا استعمال زیادہ ہو۔ اس کے علاوہ عوام میں اس حوالے سے آگاہی کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک جسم میں پوٹاشیم کی سطح انتہائی کم نہ ہو یا دل اور گردوں سے متعلق پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں، اس کی تشخیص اکثر نہیں ہو پاتی۔ پوٹاشیم جسم میں اعصابی نظام کے سگنلز کی ترسیل، پٹھوں کے سکڑاؤ اور دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی کمی کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے