پاکستان کی ثالثی اور درپیش چیلنج

Spread the love

ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے مختلف نکات زیر بحث ہیں۔ حالیہ صورتحال میں تمام فریقین جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں تاہم ہر ایک کی اپنی شرائط ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی کے حصول اور یورینیم کی افزودگی کا حق دیا جائے۔ اس کے علاوہ علاقائی معاملات میں بیرونی مداخلت بند کی جائے اور ایران کی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔ ایران نے خطے سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا بھی مطالبہ کیا ہے، جس میں عراق اور شام سے امریکی افواج کی واپسی شامل ہے۔ مزید یہ کہ ایران کا مؤقف ہے کہ فوجی کارروائیوں اور پابندیوں سے پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے۔

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے، یورینیم کی افزودگی روکنے اور افزودہ مواد کو بین الاقوامی اداروں کے حوالے کرنے کی شرائط شامل ہیں۔ امریکہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں مسلح گروہوں اور پراکسیز کی حمایت ختم کرے اور دیگر ممالک پر حملوں سے باز رہے۔

ان نکات میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے، میزائل پروگرام کی حد بندی، اور ایران کی ایٹمی تنصیبات کے بین الاقوامی معائنے کی اجازت دینے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں۔ مجوزہ فریم ورک میں عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے تسلسل کی بات بھی کی گئی ہے، جبکہ یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو پابندیاں دوبارہ نافذ ہو سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشکش ماضی میں بھی سامنے آ چکی ہے جسے اس وقت ایران نے قبول نہیں کیا تھا۔ موجودہ صورت میں ان تجاویز کی ترسیل ایک ثالثی کردار کے ذریعے کی گئی ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اس تناظر میں ثالثی کی کوششوں کو ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جنگ کے دوران مختلف ممالک اور خطوں میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ متعدد انفراسٹرکچر، توانائی کے مراکز اور شہری تنصیبات متاثر ہوئی ہیں جبکہ عالمی سطح پر تیل اور تجارت کی قیمتوں پر بھی اثر پڑا ہے۔

خطے میں جاری اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مختلف طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات اور عسکری موجودگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ خلیجی خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈے موجود ہیں جنہیں اس صورتحال میں اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فوری اور مکمل جنگ بندی کے امکانات محدود ہیں، تاہم سفارتی کوششیں جاری رہنے کی توقع ہے۔ اس تناظر میں علاقائی ممالک کے کردار کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ خطے کے ہمسایہ ممالک براہ راست اس صورتحال سے متاثر ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے