ٹرمپ کی دھمکی، مشرق وسطیٰ میں خطرناک کشیدگی

Spread the love

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں معاہدہ نہ ہوا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

اس بیان کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ سابق عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خلیجی ممالک اور عالمی اداروں سے فوری کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکا جا سکے۔

ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی فوجی تصادم کی صورت میں پورا خطہ سنگین نتائج کا شکار ہو سکتا ہے۔ تہران کے مطابق وہ دباؤ یا دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی پر عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بڑی طاقتوں سے مداخلت کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کا سب سے زیادہ اثر عالمی معیشت پر پڑ سکتا ہے، خصوصاً تیل کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں عالمی منڈی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں، کیونکہ طاقت کا استعمال خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے