وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور مہنگائی کے ایک نئے دباؤ کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق عالمی منڈی میں خلیجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ حکومت نے کفایت شعاری، کابینہ کی تنخواہوں میں کمی اور ترقیاتی فنڈز میں رکاوٹ جیسے اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالیہ عرصے میں اربوں روپے عوامی ریلیف پر خرچ کیے گئے ہیں۔
تاہم معاشی ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی درآمدی قیمتوں، ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مجموعی قیمتوں کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر نے کرایوں میں 60 سے 65 فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر جنم لے رہی ہے۔
پاکستان میں لاہور سے کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے درمیان ٹرانسپورٹ کرایوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہری، خصوصاً مزدور اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے معاشی سلسلے کو جنم دیتا ہے جو ٹرانسپورٹ، خوراک، صنعت اور تعمیرات سمیت تمام شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورتحال میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا توانائی ڈھانچہ طویل عرصے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کر رہا ہے، جبکہ مقامی متبادل توانائی ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ بھی ملکی معیشت پر شدید اثر ڈالتا ہے۔
ٹیکس نظام، سبسڈی پالیسی اور مالیاتی نظم و نسق پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ساختی اصلاحات اور شفاف پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
معاشی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط اور نچلا طبقہ ہو رہا ہے، جہاں آمدن میں اضافہ نہ ہونے کے باوجود مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے قوتِ خرید کمزور اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوری ریلیف اقدامات کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اصلاحات، متبادل ذرائع توانائی کا فروغ اور ٹیکس نظام میں شفافیت ناگزیر ہے، تاکہ معیشت کو بار بار کے بحرانوں سے بچایا جا سکے۔
