سائنس دانوں نے ٹی بی کے لیے نئی ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کرلی

Spread the love

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے محققین نے تپِ دق (ٹی بی) کی تشخیص کے لیے ایک نئی بلڈ ٹیسٹ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو بیماری کی فعال اور متعدی شکل کی درست شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس پیشرفت کا بنیادی مقصد نہ صرف بروقت اور مؤثر تشخیص کو ممکن بنانا ہے بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو بھی روکنا ہے۔ نئی تکنیک کے ذریعے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ مریض میں ٹی بی فعال حالت میں ہے یا وہ صرف پوشیدہ انفیکشن کا حامل ہے۔

فی الحال دستیاب ٹی بی ٹیسٹس یہ فرق کرنے سے قاصر ہیں کہ انفیکشن فعال ہے یا غیر فعال، جس کے باعث درست علاج اور احتیاطی اقدامات میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹی بی کا جراثیم مائیکو بیکٹیریم ٹیوبر کلوسس صرف ان افراد سے پھیلتا ہے جن میں بیماری فعال ہو اور وہ کھانسی یا دیگر ذرائع سے جراثیم منتقل کر رہے ہوں۔

تحقیق سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی بی سے متاثرہ ممالک میں بڑی آبادی میں یہ جراثیم پوشیدہ حالت میں موجود ہوتا ہے، تاہم ضروری نہیں کہ ہر شخص بیمار ہو یا بیماری پھیلانے کے قابل ہو۔ ایسے میں وہ ٹیسٹس جو صرف انفیکشن کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، فعال مریضوں کی درست نشاندہی میں مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

ماہرین کے مطابق یہ نئی بلڈ ٹیسٹ ٹیکنالوجی مستقبل میں ٹی بی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف تشخیص بہتر ہوگی بلکہ بیماری کے پھیلاؤ کو بھی مؤثر طریقے سے روکا جا سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے