ایل پی جی کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں فی کلو قیمت 500 روپے تک ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں ایل پی جی سرکاری نرخ سے بھی تقریباً 200 روپے فی کلو زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق مارکیٹ میں سپلائی کی کمی اور ڈسٹری بیوٹرز کو مہنگے داموں گیس کی فراہمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک سپلائی چین بہتر نہیں ہوتی، قیمتوں میں استحکام ممکن نہیں۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے اور امپورٹرز زائد قیمتوں پر فروخت کو روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباروں پر بھی براہِ راست اثر ڈال رہا ہے، اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو توانائی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
