وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے نفاذ سے متعلق پیش رفت کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ سبسڈی کی فراہمی کے نظام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مختلف شعبہ جات کے لیے سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے اور مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق مسافر بسوں اور منی بسوں سمیت ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ماہانہ بنیادوں پر سبسڈی جاری کی جا رہی ہے، جبکہ ٹرکوں، مال بردار گاڑیوں اور ڈیلیوری وینز کے لیے بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اشیائے خورونوش کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ سبسڈی کی رقوم کی ادائیگی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے شفاف طریقے سے کی جا رہی ہے اور اس عمل کا آغاز فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم کے مطابق مختلف صوبوں کی جانب سے ٹرانسپورٹ گاڑیوں کا ڈیٹا وفاق کو فراہم کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان حکومت نے قومی پیکیج کے لیے اپنی طے شدہ رقم جمع کرا دی ہے، جس پر انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور گزشتہ چند ہفتوں میں اربوں روپے کا ریلیف پیکیج فراہم کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی میں کمی، ریلوے سبسڈی اور ٹول ٹیکس میں نرمی جیسے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور صورتحال تسلی بخش ہے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سمیت وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
