ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جھینگوں اور دیگر سمندری غذاؤں کو متاثر کرنے والا ایک وائرس انسانوں میں آنکھوں کی ایک نئی اور خطرناک بیماری سے منسلک ہو سکتا ہے، جو سنگین صورت میں مستقل نابینا پن کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
چینی محققین کے مطابق کوورٹ مورٹیلٹی نوڈا وائرس (CMNV) کو ایک مخصوص آنکھوں کی بیماری، جسے پرسسٹنٹ آکیولر ہائپرٹینشن وائرل اینٹیریئر یووائٹس (POH-VAU) کہا جاتا ہے، سے جوڑا گیا ہے۔ تحقیق کے دوران اس بیماری میں مبتلا افراد کے آنکھوں کے ٹشوز میں وائرس کے شواہد پائے گئے، جبکہ کئی مریضوں نے حال ہی میں کچی سمندری خوراک کے استعمال یا آبی جانوروں کے ساتھ رابطے کی بھی تصدیق کی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تعلق مزید تحقیقات سے مکمل طور پر ثابت ہو جاتا ہے تو یہ پہلا موقع ہوگا کہ کوئی آبی حیات سے منسلک وائرس انسانوں میں آنکھوں کی بیماری کا سبب بنتا ہے، جو مستقبل میں ایک اہم صحت کا خطرہ بن سکتا ہے۔
یہ تحقیق جریدے “نیچر مائیکروبائیولوجی” میں شائع ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آبی جانوروں میں پایا جانے والا یہ وائرس انسانوں میں ابھرتی ہوئی بیماریوں سے ممکنہ طور پر منسلک ہو سکتا ہے۔
