پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی سفارتی مہارت کا لوہا منوا دیا ہے، جہاں اس کی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا نہ صرف جنگ بندی پر آمادہ ہوئے بلکہ طویل عرصے بعد براہِ راست مذاکرات کی میز پر بھی بیٹھنے پر تیار ہوئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ کی سربراہی میں 31 گھنٹوں پر مشتمل مسلسل سفارتی رابطوں نے ایک پیچیدہ اور دیرینہ تنازع میں اہم پیش رفت ممکن بنائی۔
بتایا جاتا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران مختلف مراحل پر حساس اور اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں متعدد چیلنجز اور رکاوٹیں بھی سامنے آئیں۔
اگرچہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ ہے اور اس میں مختلف بیرونی عوامل بھی شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود مذاکرات میں بعض مثبت پیش رفت اور اہم نکات پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔
پاکستان کے ثالثی کردار کو دونوں فریقین کی جانب سے سراہا گیا ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
