پاکستان میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی مذاکرات اور ثالثی کردار کی خبریں سامنے آنے کے بعد بھارت میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس نے حکومت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا مذاکرات میں مرکزی اور ثالثی کردار بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں بھارت کی سفارتی حکمت عملی اور علاقائی اثر و رسوخ پر بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ حکومت کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔
کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ مختلف عالمی اور علاقائی مواقع کے باوجود بھارت کی جانب سے کوئی مؤثر ثالثی کردار سامنے نہیں آیا، جس پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کی موجودہ پیش رفت نے جنوبی ایشیا کی سفارتی صورتحال کو نئی بحث میں ڈال دیا ہے، اور مختلف سیاسی حلقے اس پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔
