وطن عزیز میں سیاسی عمل جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ ڈائیلاگ اور ووٹ کی طاقت سے وجود میں آنے والے ملک میں اپنے ہی ہم وطنوں کیلئے گفتگو کے دروازے کھولنے کے بجائے ان پر جیلوں کے دروازے کھولے جا رہے ہیں،وفاق اور صوبوں میں سیاسی بیانیہ عملی طور پر غائب ہوچکا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاسی جماعتوں اور عوام کے مابین رابطہ انتہائی کمزور پڑ چکا ہے،بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر بات کرنے کے بجائے ذاتی مسائل پر سیاست کر رہی ہیں۔عام آدمی مہنگائی اور بدامنی کے بوجھ تلے دبا ہوا جبکہ سیاسی اشرافیہ کی ذاتی مصروفیات کی چکا چوند سے غریب کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں۔مہنگی بجلی، بے لگام پٹرولیم مصنوعات پر ماتم کرنیوالے عام آدمی کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہو رہی ہے اور اس پر مستزاد کہ دھرنوں اور لانگ مارچ نے پورے ملک کو ایک بےیقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔حکومت بے رحمی کے ساتھ عوام کی پیٹھ پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہی ہے اور عوام سے ووٹ لینے والے اپنے محفوظ جزیروں پر سکون سے آنکھیں موندے لیٹے ہوئے ہیں۔پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کی کوششیں جاری ہیں، دوسری طرف سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ تحریک انصاف نے 27ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت نے اسے روکنے کیلئے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
یہ صورت حال ہمیں اپنی سیاسی تاریخ کے کئی ابواب یاد دلاتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی تصادم نیا نہیں۔ 1950ء کی دہائی کے آئینی بحران سے لیکر 1958ءکے مارشل لا، 1977ءکی احتجاجی تحریک اور اسکے نتیجے میں طویل مارشل لا، 1988ء سے 1999ء تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی باہمی محاذ آرائی،اور پرویز مشرف کا مارشل لا، تاریخ بار بار یہ بتاتی رہی ہے کہ جب اختلاف مذاکرات کے بجائے تصادم میں تبدیل ہو جائے تو اسکے اثرات ایک جماعت کے بجائے پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
