یمن سعودی جنگ میں نیتن یاہو کی چالیں 

Spread the love

مشرقِ وسطیٰ کا موجودہ بحران، جس نے اس وقت پوری دنیا کو ایک شدید تشویش اور سنگین صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے، دراصل سات اکتوبر 2023 سے جاری غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست کی جانب سے کی جانے والی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فلسطینیوں کی نسلی کشی کا ردِعمل ہے، جس میں اب تک ساڑھے سات لاکھ سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔

اس بربریت نے دنیا بھر کے باضمیر انسانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے اور ایک طویل عرصے سے غیر ملکی مداخلت، خانہ جنگی اور صہیونی جارحیت کا شکار اس خطے میں باقاعدہ آگ سلگا دی ہے۔نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کے جواب میں لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے ایران کی معاونت سے غیر قانونی صہیونی ریاست کے خلاف محاذ کھولا جس نے صہیونی ریاست کو تباہ کن نقصان دیا، جس کے جواب میں امریکا اور یورپی طاقتوں نے غیر قانونی صہیونی ریاست کا بے دریغ ساتھ دیا اور یوں غیر قانونی صہیونی ریاست کے تحفظ کےلیے امریکا نے ایران پر حملے شروع کردیئے۔ اس پشت پناہی نے اس تصادم کو ایک بڑے پیمانے کی جنگ (Larger-Scale War) میں تبدیل کردیا۔

ایران نے مشرق وسطیٰ میں ہر اس ملک کو نشانہ بنایا جہاں امریکی اڈے موجود تھے اور جو ایران پر حملوں میں کسی بھی طرح کی معاونت کررہا تھا۔ جیسے جیسے یہ جنگ پھیلتی گئی، آبنائے ہرمز اور بحرِ احمر (Red Sea) کے اہم تجارتی راستے متاثر ہوئے اور یمن کے حوثی بھی اس میں شامل ہوگئے، جس کے نتیجے میں یہ تنازع محض غیر قانونی صہیونی ریات اسرائیل، لبنان اور ایران تک محدود نہ رہا بلکہ اس کے اثرات پورٹل آف مڈل ایسٹ یعنی خلیجی ممالک تک پھیل گئے۔ یوں اس جنگ کے شعلوں نے اب ان عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جو کل تک خطے کے سب سے محفوظ خطے سمجھے جاتے تھے، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے