امریکا، اسرائیل اور ایران؛ تاریخ، مفادات پر مبنی غلط فہمیوں کی کہانی

Spread the love

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر ایک فلم سمجھا جائے تو اس کے کردار مستقل نہیں ہوتے؛ یہاں دوستیاں اور دشمنیاں وقت اور مفادات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کے تعلقات بھی اسی پیچیدہ سیاسی اسکرپٹ کا حصہ رہے ہیں۔

عام تاثر کے برعکس، ایران اور اسرائیل ہمیشہ سے دشمن نہیں رہے۔ ایک وقت تھا جب دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم تھے، تجارت اور مختلف سطحوں پر تعاون بھی موجود تھا۔ ایران، ترکی کے بعد دوسرا مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور دونوں کے درمیان کئی اسٹریٹجک معاملات میں اشتراک بھی رہا۔

1950 اور 60 کی دہائی میں ایران مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکا کے قریبی اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اسی دور میں ایران میں تیل اور توانائی کے شعبے سمیت مختلف منصوبوں میں بیرونی اثر و رسوخ بڑھا، جس کے باعث مقامی سطح پر تحفظات اور بعد ازاں عدم اعتماد بھی پیدا ہوا۔

1970 کی دہائی میں بھی ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات نسبتاً مضبوط رہے، جن میں توانائی کی فراہمی اور بعض عسکری و انٹیلی جنس سطح کے روابط شامل تھے۔ تاہم 1979 کے انقلاب نے صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ نئی حکومت نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو ختم کر کے سخت مخالفانہ پالیسی اختیار کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بتدریج بڑھتی گئی۔

بعد ازاں ایران نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے مختلف گروہوں کی حمایت شروع کی جبکہ اسرائیل نے اسے اپنے لیے سیکیورٹی خطرہ تصور کیا، جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان تنازع پراکسی جنگوں اور مختلف محاذوں تک پھیل گیا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل کا تعلق کسی ایک سادہ مذہبی یا نظریاتی فریم میں نہیں آتا، بلکہ یہ تعلق وقت کے ساتھ بدلتے مفادات، علاقائی سیاست اور عالمی طاقتوں کے اثرات سے تشکیل پاتا رہا ہے۔ ریاستی تعلقات ہمیشہ مستقل نہیں ہوتے بلکہ حالات کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں، اور یہی حقیقت اس پورے خطے کی سیاست کو پیچیدہ بناتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے