امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اور متنازع بیان کے بعد نہ صرف عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کے اندر بھی سیاسی حلقوں میں شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے صدر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر امریکا کے وقار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اسی طرح سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسیوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور فوری طور پر سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو آئینی سطح پر اقدامات پر بھی بحث ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا کے اندر یہ اختلاف رائے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خارجہ پالیسی کے معاملات پر داخلی سطح پر بھی گہری تقسیم موجود ہے، جبکہ صورتحال کے مزید پیچیدہ ہونے کا امکان برقرار ہے۔
