امریکا کا گولڈن ڈوم منصوبہ مزید مہنگا، لاگت 185 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی

Spread the love

امریکا نے اپنے جدید میزائل دفاعی منصوبے گولڈن ڈوم کی لاگت 185 ارب ڈالر تک بڑھا دی ہے، جو ابتدائی تخمینے سے 10 ارب ڈالر زائد ہے۔ منصوبے میں بڑے دفاعی اداروں کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

امریکی اسپیس فورس کے جنرل مائیکل گیٹلین کے مطابق اس منصوبے کا مقصد زمینی دفاع کے نظام کے ساتھ خلاء میں جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک، میزائل ٹریکنگ سسٹمز اور ممکنہ طور پر مدار میں ہتھیاروں کی تنصیب کے ذریعے دشمن کے میزائل خطرات کا بروقت سراغ لگانا اور انہیں ناکام بنانا ہے۔

اس پروگرام میں خاص طور پر ہائپر سونک اور بیلسٹک میزائلز کو ٹریک کرنے کے لیے جدید اسپیس سینسر سسٹم (HBTSS) اور ڈیٹا نیٹ ورک شامل ہیں۔

حکام نے بتایا ہے کہ یہ مکمل دفاعی نظام آئندہ 10 سال میں تیار کیا جائے گا، جبکہ بعض ناقدین کی جانب سے لاگت 1 کھرب ڈالر تک پہنچنے کے خدشات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق منصوبے میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سب سے اہم عنصر ہے، جبکہ خلاء میں انٹرسیپٹرز کی تعیناتی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

مزید برآں، مصنوعی ذہانت اور ڈائریکٹڈ انرجی ویپنز کو مستقبل میں اس نظام کو مؤثر اور کم لاگت بنانے کے لیے کلیدی ٹیکنالوجی قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے