پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کے تناظر میں بھارت میں مختلف سیاسی و میڈیا حلقوں کی جانب سے ردعمل اور بحث میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
بھارتی حکومتی شخصیات کے بیانات اور بعض میڈیا اداروں کی رپورٹنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بیانیہ کشیدگی مزید بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔
بھارت میں بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے مختلف نوعیت کے دعوے اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں، جنہیں سیاسی مبصرین داخلی انتخابی سیاست سے بھی جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات کے قریب خطے میں بیانیہ سازی اکثر تیز ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سفارتی چینلز فعال رہیں اور غیر ضروری بیان بازی سے گریز کیا جائے، تاکہ خطے میں استحکام کو فروغ مل سکے۔
بین الاقوامی ماہرین بھی جنوبی ایشیا کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور زور دیتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
