اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے بیٹے، کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کرلیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی ابھی ایران کے سرکاری حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔ذرائع کے مطابق، پہلے اسرائیلی میڈیا نے بتایا تھا کہ اٹھاسی رکنی مجلسِ خبرگانِ رهبری نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور یہ عمل آن لائن جاری ہے۔ یاد رہے کہ مجلسِ خبرگانِ رهبری، جو اسمبلی آف ایکسپرٹس کہلاتی ہے، 88 جید علماء اور فقہاء پر مشتمل ہے، جن کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد براہِ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تاہم تہران میں تعزیتی اجتماع امام خمینی ہال میں منعقد کیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق، مجلس خبرگان رهبری کی قم میں واقع عمارت پر پہلے امریکی اور اسرائیلی حملے کیے گئے تھے، لیکن عمارت پہلے ہی خالی کرائی گئی تھی اس لیے جانی نقصان نہیں ہوا۔تدفین کے دن کا تعین ابھی مشہد میں نہیں کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوے کی ایران کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق موصول نہیں ہوئی۔
آیت اللّٰہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر منتخب، اسرائیلی میڈیا
