کینیڈا نے خطرات کی تحقیقات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نئے اختیارات دینے کا اعلان کر دیا

Spread the love

رپورٹ: محبوب علی شیخ

کینیڈا — اسٹریٹ کرائم سے لے کر قومی سلامتی کو لاحق خطرات تک، جرائم پیشہ سرگرمیاں تیزی سے ڈیجیٹل، عالمی اور جدید جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔ کینیڈین شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتِ کینیڈا فوجداری قانون (Criminal Code) کو مضبوط بنا رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (CSIS) کو جرائم کی روک تھام، سنگین خطرات کی تحقیقات اور کمیونٹیز کے تحفظ کے لیے جدید آلات فراہم کر رہی ہے۔

12 مارچ 2026 کو پبلک سیفٹی کے وزیر گیری آننداسنگری اور وزیرِ انصاف و اٹارنی جنرل شان فریزر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ Keeping Canadians Safe Act (بل C-22) کے تحت نئے اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس اعلان کو اسٹیٹ سیکریٹری برائے انسدادِ جرائم روبی سہوتا اور پیل ریجنل پولیس کے چیف نشان دورائیاپاہ نے بھی دہرایا۔

مجوزہ قانون سازی وسیع مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے اور اس کا مقصد کینیڈا کے قوانین کو اس کے اہم بین الاقوامی اتحادیوں کے قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے، جن میں فائیو آئیز انٹیلی جنس اتحاد کے ممالک بھی شامل ہیں، جہاں پہلے ہی قانونی رسائی کے نظام موجود ہیں۔ بڑھتے ہوئے پیچیدہ اور خطرناک ڈیجیٹل ماحول میں بل C-22 کے تحت فراہم کیے جانے والے اختیارات کینیڈا کی قومی سلامتی اور تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

ڈیجیٹل اور منظم جرائم کا مقابلہ

اگرچہ نئی ٹیکنالوجی نے رابطوں کو تیز اور آسان بنا دیا ہے، لیکن اس نے مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ منظم جرائم کے گروہ اور وہ افراد جو کینیڈا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اب ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں، جن میں بچوں کا جنسی استحصال، بھتہ خوری، انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل ماحول دہشت گردی، پرتشدد انتہاپسندی اور غیر ملکی مداخلت جیسے خطرات کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔

تحقیقاتی اختیارات کو مضبوط بنانا

Keeping Canadians Safe Act کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کینیڈین قوانین تیزی سے بدلتے ہوئے ڈیجیٹل ماحول کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔ اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے اور CSIS زیادہ مؤثر طریقے سے خطرات کی تحقیقات کر سکیں گے، ہنگامی حالات میں تیزی سے کارروائی کر سکیں گے اور تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں اہم معلومات حاصل کر سکیں گے۔ یہ معلومات اکثر کسی جج سے پروڈکشن آرڈر یا وارنٹ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔

مجوزہ اقدامات کے تحت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو بھی مضبوط بنایا جائے گا تاکہ سرحد پار ہونے والے سنگین جرائم اور سلامتی کے خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ قانون حالیہ وفاقی اقدامات کی توسیع ہے جن میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم سے نمٹنا، سخت ضمانتی قوانین، بار بار پرتشدد جرائم کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی منشیات کے خلاف سرحدی سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، گھریلو تشدد کی روک تھام اور بچوں کو استحصال سے بچانے کے اقدامات شامل ہیں۔

رہنماؤں کی حمایت

انسدادِ جرائم کی اسٹیٹ سیکریٹری روبی سہوتا نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ قوانین کا ارتقا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا،

“جیسے جیسے دنیا کا ٹیکنالوجیکل اور ڈیجیٹل منظرنامہ بدل رہا ہے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہمارے قوانین بھی اس نئی حقیقت کے مطابق ہوں۔ یہ مجوزہ قانون اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بشمول پیل ریجنل پولیس، کو جدید اور مؤثر تفتیشی آلات فراہم ہوں تاکہ وہ پیچیدہ مجرمانہ نیٹ ورکس کا مقابلہ کر سکیں، جبکہ آئینی تحفظات اور چارٹر کے حقوق برقرار رہیں۔”

پیل ریجنل پولیس کے چیف نشان دورائیاپاہ نے بھی ان اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جدید تفتیشی آلات وقت کی ضرورت ہیں۔

انہوں نے کہا،

“سرحد پار اور منظم جرائم میں ملوث مجرم—جن میں بھتہ خوری، سائبر کے ذریعے بچوں کا استحصال اور انسانی اسمگلنگ شامل ہیں—موجودہ قانونی اختیارات سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ جدید اور قابل رسائی آلات افسران کو ان جرائم کی تیزی اور مؤثر طریقے سے تحقیقات کرنے میں مدد دیں گے۔ وقت انتہائی اہم ہے۔”

بل کی بلدیاتی رہنماؤں کی حمایت

گریٹر ٹورنٹو ایریا کے مقامی رہنماؤں نے بھی اس مجوزہ قانون سازی کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

مسزگا کی میئر کیرولین پیرش کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ شہریوں کو منظم جرائم پیشہ گروہوں سے محفوظ رہنے کا حق حاصل ہے جو پرتشدد گھریلو حملوں، دھمکیوں اور بھتہ خوری میں ملوث ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے وہ اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ کینیڈا کے قوانین کو جدید بنایا جائے تاکہ پولیس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا مقابلہ کر سکے۔

برامپٹن کے کونسلر گرپرتاپ سنگھ تور اور میئر پیٹرک براؤن کے نمائندوں نے بھی اس تجویز کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھتہ خوری اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے جدید تفتیشی آلات انتہائی ضروری ہیں۔

گرپرتاپ سنگھ تور نے کہا،

“مجرم جس طرح جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر یہ اقدامات عوامی تحفظ اور مؤثر پولیسنگ کے لیے ناگزیر ہیں۔”

کیلیڈن کی میئر اینیٹ گرووز نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی نے جرائم کی نوعیت اور مجرمانہ تنظیموں کے کام کرنے کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

انہوں نے کہا،

“بل C-22 ہمارے قوانین کو مضبوط بنائے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور CSIS کے پاس خطرات کی فوری تحقیقات، منظم جرائم کو روکنے اور مزید نقصان سے بچانے کے لیے ضروری وسائل موجود ہوں۔”

آئندہ کا لائحہ عمل

وفاقی حکومت کے مطابق بل C-22 کینیڈا کے عوامی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ اس میں کینیڈین چارٹر کے تحت شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا مکمل احترام بھی برقرار رکھا جائے گا۔

اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو اس سے قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا تاکہ وہ جدید مجرمانہ خطرات کی نشاندہی، روک تھام اور مؤثر جواب دے سکیں اور ایک تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی دنیا میں کینیڈین شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے