کینیڈا نے شہریت کے قوانین نرم کر دیے، نئی پالیسی سے کئی نسلوں کو درخواست کا موقع

Spread the love

کینیڈا نے شہریت کے قوانین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے "سیتیزن شپ بائے ڈیسنٹ” کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے، جس کے بعد کینیڈین نژاد افراد کی مزید نسلیں بھی شہریت کے لیے درخواست دینے کی اہل ہوں گی۔

نئی پالیسی کے تحت وہ پرانی شرط ختم کر دی گئی ہے جس کے مطابق صرف بیرونِ ملک پیدا ہونے والی پہلی نسل ہی کینیڈین شہریت حاصل کر سکتی تھی۔ اب اس دائرہ کار کو بڑھا کر اگلی نسلوں تک توسیع دی گئی ہے، بشرطیکہ درخواست دہندگان مطلوبہ دستاویزات اور اہلیت کی شرائط پوری کریں۔

نئی ہدایات کے مطابق 2025 کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے لیے کچھ اضافی تقاضے بھی مقرر کیے گئے ہیں، جن میں والدین کے لیے مخصوص مدت تک کینیڈا میں قیام کی شرط شامل ہے۔

حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد شہریوں کے حقوق کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ہے، جبکہ دنیا بھر میں اس پالیسی میں نرمی کے بعد درخواستوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے