کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے لبنان میں حزب اللہ کے اہداف کے خلاف اسرائیلی فوج کی تعیناتی کو "غیر قانونی دراندازی” قرار دیتے ہوئے مذمت کی جو ملک کی "سالمیت اور خودمختاری” کی خلاف ورزی ہے۔
کارنی نے ویک فیلڈ، کیوبیک میں ایک تقریب میں صحافیوں کو بتایا، "حکومتِ لبنان نے حزب اللہ پر پابندی عائد کر دی ہے، کارروائی کر رہی ہے، وہ حزب اللہ، اس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور اسرائیل کو اس سے لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہی اس حملے کا معقول جواز ہے۔ اس لیے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔”
کارنی کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب سلامتی کونسل اقوامِ متحدہ کے تین امن فوجیوں کی حالیہ ہلاکتوں پر ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے والی تھی۔ یہ فوجی لبنان میں ممکنہ طور پر اسرائیلی فائرنگ سے ہوئے۔
اسرائیل نے حزب اللہ سے جنگ کے بعد علاقے پر قبضے کی دھمکیوں کا اعادہ کیا جس کے بعد اقوامِ متحدہ کے امدادی سرگرمیوں کے سربراہ نے منگل کو اس بات سے خبردار کیا کہ جنوبی لبنان شرقِ اوسط میں ایک اور مقبوضہ علاقہ بن سکتا ہے۔لبنانی حکام نے کہا ہے کہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
