وزیراعظم کینیڈا مارک کارنی نے توانائی، ہنر اور ٹیکنالوجی پر مرکوز بھارت کے ساتھ ایک اہم نئی شراکت داری حاصل کر لی

Spread the love

کینیڈا (محبوب شیخ) وزیرِاعظم کینیڈا مارک کارنی اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے پیر کے روز توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی اور افرادی صلاحیت کے شعبوں پر مشتمل ایک جامع اور پرعزم نئی شراکت داری کا اعلان کیا، جسے دونوں ممالک نے تقریباً تین سالہ سفارتی کشیدگی کے بعد تعلقات میں ایک نئی شروعات قرار دیا۔
بھارتی دارالحکومت میں ملاقات کے دوران کارنی اور مودی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) کو حتمی شکل دیں گے۔ اس اقدام کا مقصد 2030 تک دوطرفہ تجارت کو دگنا سے زیادہ بڑھا کر 70 ارب ڈالر تک لے جانا ہے۔ یہ پیش رفت چیف مذاکرات کاروں کی ملاقات اور معاہدے کی شرائطِ کار پر دستخط کے بعد سامنے آئی۔ملاقات کے بعد مارک کارنی نے کہا، “کینیڈا اور بھارت بااعتماد ممالک ہیں جو اپنی معیشتوں کی تعمیر و تبدیلی کے مشن پر گامزن ہیں۔ ہم شراکت داری کے ذریعے تیزی سے آگے بڑھیں گے، بڑے منصوبے مکمل کریں گے اور اپنی عوام کے لیے زیادہ خوشحالی لائیں گے۔”
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور توانائی و اہم معدنیات، مصنوعی ذہانت، دفاع اور ثقافتی تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے پانچ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کا خیرمقدم کیا۔
تاریخی یورینیم معاہدہ
اعلانات کے مرکز میں 2.6 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ ہے جس کے تحت سسکیچیوان میں قائم کمپنی Cameco 2027 سے 2035 کے دوران بھارت کو تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ پاؤنڈ یورینیم فراہم کرے گی۔ اس طویل مدتی معاہدے سے توقع ہے کہ بھارت کی جوہری توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بدلتے عالمی سپلائی چین کے تناظر میں اس کی توانائی سلامتی مضبوط ہوگی۔دونوں ممالک نے مائع قدرتی گیس (LNG)، مائع پیٹرولیم گیس (LPG)، یورینیم، شمسی اور ہائیڈروجن توانائی پر مشتمل اسٹریٹیجک انرجی پارٹنرشپ بھی شروع کی۔ اوٹاوا نے انٹرنیشنل سولر الائنس میں شمولیت اور گلوبل بایوفیولز الائنس میں مکمل رکنیت حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا، جو صاف توانائی کے شعبے میں وسیع تر تعاون — بشمول ہوا، بایوفیول اور پن بجلی — کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جو برقی گاڑیوں، بیٹری ذخیرہ اندوزی اور جدید صنعت کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے دوران سپلائی چین کو متنوع بنانا ہے۔
کشیدہ تعلقات کی بحالی
یہ پیش رفت 2023 کے بعد دوطرفہ تعلقات میں سب سے بڑی بہتری سمجھی جا رہی ہے، جب اُس وقت کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ کینیڈا میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کے قتل میں بھارتی ایجنٹس کے ملوث ہونے کے “قابلِ اعتبار الزامات” موجود ہیں — ایک الزام جسے نئی دہلی نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ اس تنازعے کے نتیجے میں سفارتی اہلکاروں کی بے دخلی اور تجارتی مذاکرات میں سردمہری پیدا ہو گئی تھی۔مارک کارنی کی قیادت میں اوٹاوا نے بھارت کے ساتھ روابط بحال کرنے کی کوشش کی ہے، جو دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، جبکہ کینیڈا کو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار، امریکہ، کی جانب سے محصولات کے دباؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نئی پیش رفت دونوں ممالک کی اسٹریٹیجک حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت صنعتی ترقی کے لیے توانائی اور اہم معدنیات کی مستحکم فراہمی چاہتا ہے، جبکہ کینیڈا برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
تجارت سے آگے: ہنر اور ٹیکنالوجی
توانائی اور تجارت کے علاوہ یہ معاہدہ دونوں جمہوری ممالک کے درمیان عوامی روابط کو بھی فروغ دیتا ہے۔ کینیڈا میں 18 لاکھ سے زائد بھارتی نژاد افراد آباد ہیں، جو ملک کی سب سے بڑی تارکینِ وطن برادریوں میں سے ایک ہیں۔دونوں حکومتوں نے اعلیٰ تعلیم، خلائی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کا عہد کیا تاکہ سماجی اور تجارتی روابط مزید مضبوط ہوں۔مذاکرات کے بعد مودی نے کہا کہ یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لیے “ترقی اور جدت کے نئے راستے” کھولے گی۔ کارنی نے اس معاہدے کو ایک وسیع تر اسٹریٹیجک تعلقات کی “بنیاد” قرار دیا جو مستحکم تجارت اور مشترکہ معاشی عزائم پر قائم ہوگا۔
اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں، تاہم ان وسیع اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک حالیہ کشیدگی سے آگے بڑھ کر توانائی سلامتی، مضبوط سپلائی چین اور تکنیکی تعاون جیسے طویل مدتی اسٹریٹیجک اہداف پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں جو آئندہ دہائی میں بھارت-کینیڈا تعلقات کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے