رپورٹ: محبوب علی شیخ
کینیڈا میں سال 2025 کے دوران فراڈ کے مختلف واقعات میں شہریوں کو کم از کم 704 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ انکشاف Canadian Anti-Fraud Centre (CAFC) کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار میں کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک بھر میں دھوکہ دہی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ اعداد و شمار 6 مارچ 2026 کو Royal Canadian Mounted Police (RCMP) اور Competition Bureau Canada کے تعاون سے جاری کیے گئے۔ حکام کے مطابق رپورٹ ہونے والا مالی نقصان دراصل فراڈ سے ہونے والے اصل نقصان کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے۔
اداروں کا اندازہ ہے کہ ہر دس میں سے ایک سے بھی کم فراڈ کے واقعات رپورٹ کیے جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اصل مالی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
فراڈ کی سب سے عام اقسام
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کینیڈا میں سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والی تین بڑی دھوکہ دہی کی اقسام یہ تھیں:
- شناختی فراڈ (Identity Fraud)
- سرمایہ کاری فراڈ (Investment Fraud)
- سروس فراڈ (Service Fraud)
ان اسکیموں کا مقصد عام طور پر متاثرین کو دھوکے سے رقم بھیجنے پر مجبور کرنا یا ان سے حساس معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، جیسے سوشل انشورنس نمبر، پاس ورڈز یا بینکنگ تفصیلات۔
سب سے زیادہ مالی نقصان والے فراڈ
مالی نقصان کے لحاظ سے سرمایہ کاری فراڈ سب سے بڑا فراڈ ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ رومانوی فراڈ (Romance Scams) اور ملازمت سے متعلق فراڈ (Job Scams) بھی بڑے پیمانے پر سامنے آئے، جو اکثر آن لائن پلیٹ فارمز اور جعلی ملازمت کی پیشکشوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے فراڈ کے طریقوں کو مزید خطرناک اور قائل کرنے والا بنا دیا ہے۔ دھوکہ باز اب جعلی شناختیں، ویب سائٹس اور انتہائی متاثر کن مارکیٹنگ پیغامات تیار کر سکتے ہیں تاکہ لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔
قائم مقام کمشنر جین پراٹ کے مطابق AI نے مجرموں کو ایسے طاقتور اوزار فراہم کیے ہیں جن کے ذریعے وہ زیادہ پیچیدہ فراڈ اسکیمیں چلا سکتے ہیں اور آسانی سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
نوجوان کینیڈین زیادہ نشانے پر
اگرچہ نوجوان کینیڈین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے زیادہ واقف سمجھے جاتے ہیں، لیکن وہ فراڈ کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپ بن رہے ہیں۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق 18 سے 34 سال کے افراد خود کو AI سے متعلق فراڈ کی شناخت کرنے میں سب سے زیادہ پراعتماد سمجھتے ہیں۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔
تقریباً 29 فیصد نوجوان کینیڈین — یعنی ہر تین میں سے ایک — نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سال کے دوران کسی نہ کسی فراڈ کا شکار ہوئے یا اس سے متاثر ہوئے۔
ماہرین کے مطابق دھوکہ باز نوجوانوں کو اس لیے زیادہ نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ وقت آن لائن گزارتے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ سرگرم ہوتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور ای میل فراڈ کے بڑے ذرائع
حکام کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ای میل فراڈ کرنے والوں کے لیے سب سے عام ذرائع بن چکے ہیں، جن کے ذریعے وہ بڑی تعداد میں لوگوں تک تیزی سے پہنچ جاتے ہیں۔
دھوکہ باز اکثر جعلی پروفائلز، فِشنگ پیغامات اور جعلی اشتہارات استعمال کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ذاتی یا مالی معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
کینیڈین شہریوں کے حفاظتی اقدامات
فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود بہت سے کینیڈین اپنی آن لائن سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق:
- 88 فیصد کینیڈین مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں
- 82 فیصد افراد دستیاب ہونے پر ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) بھی فعال رکھتے ہیں
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشکوک پیغامات کی تصدیق کریں، محتاط رہیں اور فراڈ کے واقعات کی اطلاع Canadian Anti-Fraud Centre کو دیں تاکہ ملک بھر میں بڑھتے ہوئے مالیاتی فراڈ کے خطرے سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔
