وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق اب غیر ملکی شہریوں، کمپنیوں اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو بھی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔ ان سرمایہ کاروں کو حکومتی سیکیورٹیز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے میں اسٹیٹ بینک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2025ء کے دوران ترسیلاتِ زر بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ مالی سال 2026ء میں ان کے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ پاکستان دنیا میں ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے ممالک میں پانچویں اور جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 16.3 ارب ڈالر جبکہ مجموعی ذخائر 21.6 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ فروری 2026ء تک ان اکاؤنٹس کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس نظام کے ذریعے مجموعی سرمایہ کاری 12 ارب ڈالر سے بڑھ گئی ہے۔
وزیراعظم نے اس پیش رفت پر وزیر خزانہ، اسٹیٹ بینک اور متعلقہ بینکاری اداروں کو مبارکباد دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار میں توسیع سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع مزید بہتر ہوں گے اور مالیاتی منڈیوں کو وسعت ملے گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی توسیع سے شفاف، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں کو ملک میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔
