وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے پیٹرولیم مصنوعات پر ہدفی سبسڈی کے نظام کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور اسے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سپلائی صورتحال اور سبسڈی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی مستحکم اور تسلی بخش ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کی جانب سے ہدفی سبسڈی کے لیے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کی گئی، جس کا مقصد شفافیت اور سبسڈی کی مؤثر ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ سبسڈی کی فراہمی کے لیے موبائل ایپ بیسڈ نظام متعارف کرایا جائے۔
صوبائی نمائندوں نے اجلاس میں اپنی تجاویز پیش کیں اور ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور معاشی صورتحال کے مطابق پالیسی اقدامات کو سراہا۔ بعض نمائندوں نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اثرات کو عوام تک منتقل کرنے کے لیے متوازن حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حکومت کی مالی گنجائش محدود ہے اور ریلیف اقدامات زیادہ تر پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن پر منحصر ہیں، اس لیے کسی بھی سبسڈی یا ریلیف پالیسی کو معاشی استحکام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کو چیلنج کے بجائے اصلاحات کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور ٹیکس و سبسڈی نظام میں شفافیت اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ وفاق اور صوبے مل کر ہدفی سبسڈی کے جدید نظام کو جلد مکمل کریں گے تاکہ عوام کو بہتر اور شفاف ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
