مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں برطانیہ، فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا اور جاپان کے رہنماؤں کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے، جس میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا گیا ہے اور پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا گیا ہے۔
یہ اعلامیہ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے دفتر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری کیا گیا، جس پر فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اور جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائیچی سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے دستخط کیے۔
اعلامیے میں یورپی کمیشن کی صدر اور یورپی کونسل کے صدر نے بھی شمولیت اختیار کی، جس سے اس بیان کی عالمی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس میں شامل سفارتی کوششوں، خصوصاً پاکستان کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔ رہنماؤں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ فوری طور پر بامعنی مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے تاکہ مستقل امن کا حل تلاش کیا جا سکے، جبکہ ایران میں شہریوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال قابو میں نہ لائی گئی تو عالمی توانائی بحران جنم لے سکتا ہے، اس لیے تمام فریقین جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی آزادی کو برقرار رکھنے اور عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے بھی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، جبکہ لبنان میں جاری کشیدگی پر بھی فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
