ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات منہ میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، جو دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل کے ذریعے شناخت کی جا سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق منہ میں موجود نقصان دہ بیکٹیریا بڑی آنت تک پہنچ کر سوزش پیدا کر سکتے ہیں، جو بعض اوقات کینسر کے بڑھنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔برش اور فلاس صحیح طریقے سے نہ کرنا، سگریٹ نوشی، زیادہ الکحل یا شکر والی غذا اور کم فائبر کا استعمال منہ کے مائیکرو بایوم کے توازن کو خراب کر دیتا ہے۔ اس سے منہ کے نقصان دہ بیکٹیریا آنتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔انٹرنیشنل جرنل آف کینسر میں شائع تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن خواتین کے دانت کم ہوں یا جنہیں مسوڑھوں کی بیماری ہو، ان میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر بڑی آنت کے اوپری حصوں میں۔مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن یا پیچھے ہٹنا اور منہ سے بدبو آنا ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ برش کرتے وقت خون آنا انفیکشن اور سوزش کی علامت ہے، جس سے نقصان دہ بیکٹیریا خون میں شامل ہو کر نظامِ ہاضمہ تک پہنچ سکتے ہیں۔زبان پر سفید یا پیلی تہہ جمع ہونا بھی مائیکرو بایوم میں تبدیلی کا اشارہ ہے اور بعض صورتوں میں یہ بڑی آنت کے کینسر کے خطرے سے جڑا ہوتا ہے۔جن افراد کے چار یا اس سے زیادہ دانت گر چکے ہوں اور وہ برسوں مسوڑھوں کی بیماری کا علاج نہ کروا پائے ہوں، ان میں کولون پولپس کا خطرہ تقریباً 20 فیصد زیادہ پایا گیا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کو نظر انداز کرنا آنتوں کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، اس لیے باقاعدہ دانتوں کی دیکھ بھال اور بروقت علاج ضروری ہے۔
آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات منہ میں ظاہر ہوتی ہیں، ماہرین صحت
