ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے، تاہم تہران چاہتا ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ تنازع دوبارہ شروع نہیں ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر نے یہ بات یورپی کونسل کے صدر سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہی۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے شہر اصفہان میں اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے فوجی اور بعض شہری علاقوں پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔
مختلف شہروں میں حملوں کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ اس کے ساتھ ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کی نئی لہر داغی گئی، جس کے بعد متعدد علاقوں میں دھماکوں اور زخمیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے خطے میں بعض امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، جبکہ خلیجی علاقوں میں ڈرون اور میزائل سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر ملبے گرنے سے محدود نقصان اور زخمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ادھر لبنان میں بھی کشیدگی کے دوران جھڑپوں اور جانی نقصان کی اطلاعات رپورٹ ہوئی ہیں۔
