امریکا میں لاکھوں افراد طرز زندگی کے باعث ڈیمنشیا کے خطرے سے دوچار ہیں، تحقیق

Spread the love

ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکا میں دماغی تنزلی اور یادداشت متاثر کرنے والی بیماری ڈیمنشیا کے کیسز میں آئندہ برسوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کا امکان ہے۔

اس وقت اندازاً 70 لاکھ امریکی ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ تعداد 2050 تک تقریباً دگنی ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں محققین اب ایسے عوامل پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے اس بیماری کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ڈیمنشیا کے تقریباً نصف کیسز کا تعلق مختلف طرزِ زندگی اور صحت کے عوامل سے جوڑا جا سکتا ہے، جن میں ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، موٹاپا اور ٹائپ 2 ذیابیطس شامل ہیں۔

بوسٹن یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقیق میں تقریباً 3 لاکھ افراد کا دو سال تک مشاہدہ کیا گیا، جس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹائپ 2 ذیابیطس اس خطرے کو تقریباً دو گنا تک بڑھا سکتی ہے، جبکہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں یہ خطرہ اس سے بھی زیادہ پایا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں ڈیمنشیا کا امکان تقریباً تین گنا تک زیادہ دیکھا گیا، جبکہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں یہ شرح دو گنا کے قریب رہی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹائپ 2 ذیابیطس زیادہ عام ہے، لیکن ٹائپ 1 ذیابیطس کے اثرات بھی اب نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس زیادہ تر طرزِ زندگی جیسے غیر متوازن خوراک اور موٹاپے سے منسلک ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 1 ایک خودکار مدافعتی بیماری ہے جس میں جسم انسولین بنانے والے خلیات کو متاثر کرتا ہے اور اسے مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا۔

ماہرین کے مطابق ٹائپ 1 ذیابیطس میں خون میں شوگر کی سطح کا بار بار اتار چڑھاؤ دماغی افعال پر اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر یادداشت کے مرکز ہپوکیمپس میں سوزش اور خلیاتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح انسولین کی کمی دماغی خلیات کو توانائی کی فراہمی متاثر کر سکتی ہے اور نقصان دہ پروٹینز کے جمع ہونے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق خون میں گلوکوز کی غیر مستحکم سطح دماغ کی خون کی شریانوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے ویسکولر ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ نتائج ایک معروف طبی جریدے میں شائع کیے گئے، جن میں 65 سال کی اوسط عمر کے 2 لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد کا ڈیٹا شامل تھا۔ تحقیق کے دوران 2,300 سے زائد افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص سامنے آئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج تشویشناک ہیں، لیکن اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں بروقت علاج، بہتر نگرانی اور طرزِ زندگی میں بہتری کے ذریعے اس خطرے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے