ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے مختلف عالمی اور علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے کیے، جن میں تہران، ریاض، ابوظہبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز کے اہم حکام شامل ہیں۔ ان رابطوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا بتایا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بعض عالمی شخصیات کے ساتھ روابط کی وجہ سے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کی سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت، بشمول وزیرِاعظم، وزیرِ خارجہ اور عسکری قیادت، مسلسل رابطوں کے ذریعے خطے میں امن کی کوششوں میں مصروف ہے۔
دوسری جانب یورپی سفارتی حلقوں کی جانب سے بھی اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ مختلف فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور مستقبل میں براہ راست مذاکرات کا امکان بھی موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
