پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی حالیہ نجکاری، جسکے تحت 75 فیصد حصص فروخت کیے گئے، ایک بار پھر شدید عوامی بحث کا سبب بنی ہے۔ ناقدین اسے ایک قیمتی قومی اثاثہ سستے داموں فروخت کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالی ایک مشہور مثال یہ ہے کہ حکومت نے ’’135 ارب روپے میں ایک گھر بیچ دیا، خود صرف 10 ارب رکھے، جبکہ نیا مالک 125ارب روپے مرمت پر خرچ کر رہا ہے۔‘‘یہ مثال بظاہر دل کو لگتی ہے، مگر معاشی اعتبار سے گمراہ کن ہے۔ ریاستی اداروں کی قدر و قیمت کا تعین جذباتی تشبیہوں سے نہیں بلکہ بیلنس شیٹ، کیش فلو اور مستقبل کی ذمہ داریوں سے کیا جاتا ہے۔اس جذباتی بیانیے کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ سنجیدہ اور جائز سوال بھی سامنے آیا ہےکہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کیے گئے تقریباً 800 ارب روپے کے قرضے کا کیا بنے گا؟ عوام کیلئے یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ آخرکار یہ قرض قومی خزانے سے ہی ادا ہونا ہے۔یہ سوالات نعروں اور استعاروں سے نہیں بلکہ عقلی اور معاشی بنیادوں پر جوابات کے متقاضی ہیں۔
پی آئی اے اثاثہ نہیں بوجھ تھی!
گھر ایک بڑھنے والی (Appreciating) جائیداد ہوتا ہے۔ پی آئی اے ایسی نہیں تھی۔ دہائیوں تک سیاسی مداخلت، ناقص حکمرانی، حد سے زیادہ بھرتیاں، پرانا اور ناکارہ بیڑا، انتظامی نااہلی اور بڑھتے ہوئے واجبات نے اس ادارے کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں اس کے ذمہ واجبات، اس کے قابلِ استعمال اثاثوں سے کہیں زیادہ ہو چکے تھے۔معاشی اصطلاح میں پی آئی اے کی نگیٹو ایکویٹی ہو چکی تھی، یعنی ادارے کی مجموعی قدر منفی ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی کاروبار کو ’’قیمتی اثاثہ‘‘ قرار دینا معاشی اصولوں سے لاعلمی کے مترادف ہے۔ایسی صورتحال میں نجکاری کا مقصد فروخت سے زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ مستقبل کے مسلسل نقصانات کو روکنا ہوتا ہے۔ پی آئی اے کو ’’قیمتی گھر‘‘ قرار دینا اس حقیقت کو نظرانداز کرنا ہے کہ یہ گھر ہر سال مالک کی جیب سے اربوں روپے نکال رہا تھا۔نجکاری کے بعد نئے مالکان کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کو بہت زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ تاہم یہ سرمایہ حکومت کو ادا کی جانے والی رقم نہیں بلکہ نجی سرمایہ کاروں کا رسک کیپٹل ہے، جو طیاروں کی تجدید، عالمی معیار کے حفاظتی تقاضوں کی تکمیل، پروازوں کی بروقت روانگی، سروس کے معیار میں بہتری اور انتظامی اصلاحات پر خرچ کیا جا رہا ہے۔اگر پی آئی اے ریاستی ملکیت میں رہتی تو یہی تمام اخراجات قومی خزانے، یعنی ٹیکس دہندگان کو برداشت کرنا پڑتے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ خطرہ عوام سے نجی شعبے کو منتقل ہو چکا ہے۔ ریاست نے نہ صرف مالی بوجھ سے نجات حاصل کی بلکہ انتظامی ذمہ داری بھی خود سے ہٹا دی۔
800 ارب روپے کے قرضے کو الگ کیوں کیا گیا؟
اس معاہدے کا سب سے متنازع پہلو پی آئی اے کے تاریخی قرضے کو ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کرنا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ حکومت نے یہ قرض اپنے ذمے لیا، مگر یہ فیصلہ کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ مجبوری کے تحت کیا گیا۔کوئی سنجیدہ سرمایہ کار ایسی ایئرلائن نہیں خریدتا جو دہائیوں کے جمع شدہ نقصانات، سرکاری ضمانت یافتہ قرضوں، پنشن کی ذمہ داریوں اور غیر ادا شدہ واجبات کے بوجھ تلے دبی ہو۔ اگر یہ قرض پی آئی اے میں ہی رہتا تو یا تو نجکاری مکمل طور پر ناکام ہو جاتی یا ادارے کی قدر تقریباً صفر کے قریب پہنچ جاتی۔اس سے بھی اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ قرض پہلے ہی ریاستی ذمہ داری تھا۔ نجکاری نے اسے پیدا نہیں کیا بلکہ مزید بڑھنے سے روک دیا۔
اگر پی آئی اے کی نجکاری نہ ہوتی تو؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دینے سے ناقدین عموماً گریز کرتے ہیں۔ اگر پی آئی اے بدستور سرکاری تحویل میں رہتی تو سالانہ نقصانات جاری رہتے، مزید قرض چڑھتا جاتا اور 800 ارب روپے باآسانی ایک کھرب روپے سے تجاوز کر جاتے۔یعنی کچھ نہ کرنا سب سے مہنگا اور نقصان دہ فیصلہ ثابت ہوتا۔ نجکاری نے ایک لا متناہی اور غیر یقینی مالی بوجھ کو ایک محدود اور قابلِ انتظام ذمہ داری میں بدل دیا ہے، جو کسی بھی کمزور معیشت کیلئے ایک بڑی اصلاح ہے۔
قرضے کا انتظام کیسے ہوگا؟
پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی میں موجود قرضے کو طویل المدتی ری اسٹرکچرنگ، غیر بنیادی اثاثوں اور قیمتی اراضی کی فروخت، اور وقت کے ساتھ بجٹ کے ذریعے بتدریج جذب کیا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اب حکومت قرض تو ادا کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ چلنے والے آپریشنل نقصانات کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔مزید یہ کہ 25فیصد حصص اپنے پاس رکھ کر ریاست نے مستقبل میں ممکنہ مالی فائدے کا راستہ بھی کھلا رکھا ہے، اگر نجی انتظام میں ایئرلائن دوبارہ مستحکم ہو جاتی ہے۔
اصل ناکامی تاخیر تھی
پی آئی اے کی نجکاری کو قومی اثاثہ بیچنے کے بجائے ایک طویل عرصے سے جاری مالی خون ریزی کو روکنے کے اقدام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اصل ناکامی نجکاری نہیں بلکہ وہ دہائیاں تھیں جن میں بروقت فیصلے نہ کرنے کے باعث نقصانات اور قرض ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ گئے۔ریاست نے ماضی کی بدانتظامی کی ذمہ داری قبول کر کے اور مستقبل کے خطرات نجی شعبے کو منتقل کر کے بالآخر ایک کڑا مگر ناگزیر فیصلہ کیا ہے۔ معیشت میں شاذ و نادر ہی کامل حل دستیاب ہوتے ہیں،اصل دانش مندی یہ ہوتی ہے کہ کم سے کم نقصان دہ راستہ اختیار کیا جائے۔ اس معیار پر پی آئی اے کی نجکاری ایک ناگزیر معاشی فیصلہ تھا۔
