دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے خطے کے امن کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملانے والی یہ تنگ گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کے تقریباً ایک تہائی سمندری تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
خلیجی ممالک، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور بحرین شامل ہیں، اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچاتے ہیں۔ یومیہ تقریباً 30 سے 40 بحری جہاز اس گزرگاہ سے گزرتے ہیں، جو 20 ملین بیرل سے زائد تیل اور گیس دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ترسیل ایشیائی ممالک کو ہوتی ہے، جس کے باعث اس راستے میں کسی بھی خلل کے اثرات سب سے زیادہ ایشیائی معیشتوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس سے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو پاکستان کا درآمدی بل اربوں ڈالر تک بڑھ سکتا ہے اور معاشی شرح نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر دباؤ اور بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی سطح پر توانائی بحران کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی ترسیل مکمل طور پر متاثر ہوئی تو قیمتیں مزید بڑھ کر غیر معمولی سطح تک پہنچ سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
ادھر امریکہ کی جانب سے اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون کی اپیل کو بھی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ موجودہ حالات میں عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے اس بحران کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع صرف علاقائی نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔
