پاکستان کی کامیاب ثالثی کے بعد بھارت میں سخت ناخوشگواری پائی گئی۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ وزیراعظم Shehbaz Sharif اور فیلڈ مارشل Asim Munir کی سفارتی مہارت نے بھارت کی قیادت کو حیرت میں ڈال دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ماضی میں اُڑی واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی وزیراعظم Narendra Modi پر تنقید کی ہے اور دعویٰ کیا کہ پاکستان کی شمولیت نے مودی کی ذاتی سفارت کاری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری اطلاعات جے رام رمیش نے کہا کہ یہ پاکستان کا کردار بھارت کی پالیسیوں اور مودی کی سفارت کاری پر سوالیہ نشان ہے، اور انہوں نے بھارتی آپریشن سندور کے حوالے سے وضاحت طلب کی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکی صدر Donald Trump نے جنگ بندی کی مدت دو ہفتے کے لیے بڑھا دی، جبکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر Mujtaba Khamenei نے بھی جنگ بندی کی منظوری دی۔
