ایران و امریکہ کا جنتر منتر!

Spread the love

یران کی موجودہ جنگی حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیر متوقع مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ماہرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، ایران کی حکومت مستحکم ہے، عوام کے حوصلے بلند ہیں اور وہ لمبی جنگ کے لیے تیار ہیں، جبکہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات محدود نتائج دے رہے ہیں۔

امیر حمزہ کے مطابق، ایران کی مزاحمت نے امریکی اڈوں والے عرب ممالک کو بھی حقیقت کا ادراک کروا دیا ہے کہ امریکی اڈے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔ ایران کی حکومت اور عوامی حوصلہ اب بھی غیر متزلزل ہیں اور امریکہ کی عالمی برتری کو نقصان پہنچا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے فلسطین، لبنان، شام اور دیگر مسلم ممالک میں میزائل حملوں کے اثرات مسلم دنیا کے لیے مخلوط ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہ حملے مسلم ممالک کی طاقت کو کمزور کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا موقف اپنے اثاثوں اور خود مختاری کے تحفظ کے تحت جائز قرار دیا جا رہا ہے۔

عمرو و عیار نے نشاندہی کی کہ ایران کی حکمت عملی بعض جگہوں پر مسلم دنیا کے مفاد کے خلاف بھی گئی، کیونکہ اس کے نتیجے میں فلسطین کے دو ریاستی حل کے راستے میں رکاوٹیں آئیں اور لبنان و شام کی صورت حال متاثر ہوئی۔

امیر حمزہ کا کہنا تھا کہ ایران کی حکمت عملی نے امریکہ اور اسرائیل کے غرور کو چکنا چور کر دیا ہے، اور مسلم دنیا مستقبل میں فعال اور قیادت کے لیے تیار ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر مسلم دنیا سائنس، ٹیکنالوجی اور عملی حکمت کی طرف توجہ نہ دے، تو شکست کے خطرات موجود رہیں گے۔

تحلیل کاروں کے مطابق، ستاروں اور نجوم کے اثرات محدود ہیں، جبکہ عملی علوم اور خدائی احکامات غیر متغیر رہتے ہیں۔ ایران کی مزاحمت اور مسلم دنیا کی موجودہ پوزیشن عالمی سیاسی توازن پر گہرا اثر ڈال رہی ہے، اور مستقبل میں علاقے میں طاقت کا نیا محور مسلم دنیا ہی بن سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے