ملکی دولت چند ہاتھوں تک محدود، معاشی نظام کی تشکیل نو ناگزیر

Spread the love

پاکستان میں معاشی مباحث عموماً شرح سود، مالی خسارے، ٹیکس نظام اور قرضوں تک محدود رہتے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور ساختی نوعیت کا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام زیادہ تر قرض اور یقینی منافع کے ماڈل پر قائم ہے، جس کے باعث دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہی ہے اور مجموعی معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ اس نظام میں حقیقی پیداواری سرگرمیوں کے بجائے مالی لین دین کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

ماہرین ایک ایسے متبادل فریم ورک کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اخلاقی اصولوں، رسک شیئرنگ اور شراکت داری پر مبنی ہو۔ اس تصور کے مطابق سرمایہ کاری میں منافع اور نقصان دونوں کو مشترکہ طور پر برداشت کیا جانا چاہیے، جبکہ مالی معاملات میں شفافیت اور کمزور قرض داروں کے لیے نرمی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ مالی ڈھانچے میں قرض لینے والے فریق پر زیادہ دباؤ ہوتا ہے جبکہ قرض دہندگان نسبتاً محفوظ رہتے ہیں۔ معاشی سست روی کی صورت میں یہ عدم توازن مزید بڑھ جاتا ہے، جس سے کاروبار متاثر اور روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کو براہِ راست پیداواری سرگرمیوں سے جوڑنا ناگزیر ہے، کیونکہ بغیر عملی شراکت کے منافع کا حصول معیشت میں بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس شراکت داری پر مبنی سرمایہ کاری کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے کر معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ سخت قرض شرائط اکثر دیوالیہ پن اور بے روزگاری کا سبب بنتی ہیں، جبکہ قرض کی تنظیم نو اور ریلیف اقدامات معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق شفافیت، دستاویزی معیشت اور مضبوط قانونی نظام سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بلند عوامی قرض، کمزور صنعتی ترقی، کم سرمایہ کاری اور دولت کے غیر متوازن ارتکاز جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

نتیجتاً ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو قرض پر مبنی ماڈل سے نکل کر ایک زیادہ شفاف، منصفانہ اور شراکت داری پر مبنی معاشی ڈھانچے کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ پائیدار ترقی ممکن ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے