بادشاہ سلامت اور وزیر با تدبیر

Spread the love

ایک بادشاہ کے دربار میں اقتدار چلانے کے لیے دو مختلف طرزِ فکر سامنے آئے۔ ایک وزیر نے بادشاہ کو شاہانہ طرزِ حکمرانی، شاہی خزانے کے بے دریغ استعمال، رعایا کو وقتی ہمدردی کے بیانات سے مطمئن رکھنے اور انصاف کے راستے محدود کرنے جیسے مشورے دیے۔

دوسری جانب مشیر نے تجویز دی کہ جو لوگ اس پالیسی کے خلاف اٹھیں انہیں سختی سے ختم کر دیا جائے تاکہ مکمل کنٹرول برقرار رہے۔

بادشاہ نے دونوں کی باتیں پسند کر کے ان پر عمل کیا، جس کے نتیجے میں دربار دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا اور اقتدار کی کشمکش بڑھ گئی۔ ملک میں بدعنوانی، لاقانونیت اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا گیا۔

بعد ازاں عوامی غصے اور بغاوت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ ایک نجومی نے صورتحال دیکھ کر خبردار کیا کہ اقتدار خطرے میں ہے کیونکہ محل کے باہر بڑی تعداد میں ناراض لوگ جمع ہو رہے ہیں۔

اس صورتحال کے باوجود درباری مشوروں اور سازشوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ عوامی غصہ مسلسل بڑھتا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے