امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دیے گئے سخت بیان اور 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے باعث توانائی کے شعبے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 2.35 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہ 114.16 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ بھی 1.72 فیصد اضافے کے ساتھ 110.91 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق خطے میں کشیدگی اور ممکنہ سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے، جس نے عالمی منڈی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور توانائی بحران کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
