ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں، کینیڈا

Spread the love

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ایران پر جاری اسرائیلی و امریکی جنگ کے بارے میں واضح موقف لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنگ بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتی اس لیے اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔وہ سڈنی میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کر رہے تھے۔کارنی نے کہا ان کا ملک کینیڈا اس چیز کا خیر مقدم کرتا ہے کہ ایران میں نظام حکومت تبدیل ہو تاکہ موجودہ نظام ختم ہوسکے جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اور دہشت گردی کا ذریعہ ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے جو حملے جاری ہیں یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق نہیں ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان حملوں کی قانونی حیثیت کیا ہے میں اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ میں ایک قانون دان نہیں ہوں یہ کسی بین الاقوامی قانون کے ماہر کا موضوع ہے۔ کارنی کی طرف سے یہ خیالات ان کے دورہ آسٹریلیا کے دوسرے روز کو سامنے آئے ہیں۔کینیڈا کے وزیراعظم ان دنوں امریکہ صدر کے ساتھ خیالات کے سخت اختلافات سے دوچار ہیں خاص طور پر کینیڈا کو امریکہ میں ضم کرنے کی امریکی سوچ پر انہیں سخت تحفظات ہیں۔ نیز امریکہ کی طرف سے کینڈا کے لیے ٹیرف کی سطح بڑھانے پر بھی دونوں طرف کے تعلقات متاثر ہیں انہوں نے پچھلے دنوں ورلڈ اکنامک فورم میں خبردار کیا تھا کہ امریکی قیادت میں چلنے والا عالمی نظام ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔بدھ کے روز ان کا اس جانب ایک بار پھر اشارہ کرکے کہنا تھا مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ صورتحال بین الاقوامی نظام کی ناکامی کی ایک اور دلیل ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو جلدی سے کم کیا جائے اور ہم اس سلسلے میں مدد کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون ہر طرح کے جنگجووں کو کچھ حدود کو پابند کرتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل ان پابندیوں کے بغیر کام کررہے ہیں۔یاد رہے امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کے خلاف 28 فروری سے جنگ شروع کر رکھی ہے اس دوران ایرانی سپریم لیڈر سمیت کئی اہم حکومتی عہدیداروں کو ٹارگٹ کرکے قتل کیا گیا ہے۔ حتی کہ ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں ایرانی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 170 کے قریب وہ کمسن بچیاں بھی شامل ہیں جن کو ان کے سکول میں اسرائیلی بمباری کرکے قتل کیا گیا۔اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی واقع میں بچوں کا یہ قتل امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے ہی روز ممکن بنا لیا گیا تھا۔بعد ازاں ایران نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف، مفادات اور عمارات کو نشانہ بنانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات، قطر ، کویت ، بحرین اور سعودی عرب میں بھی ایران نے نے میزائل حملوں سے امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایرانی جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی حمایت کی مگر بدھ کے روز اس پر افسوس ظاہر کیا کہ دونوں ملک ایران کو غیر مسلح کرنے میں ناکام ہیں۔ جمعرات کے روز کارنی آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں وزیر اعظم اینتھنی البانیز سے ملاقات کے علاوہ پارلیمان سے بھی خطاب کریں گے۔آسٹریلیا کے وزیراعظم کینیڈا کے رہنما کو اپنا ہم خیال رہنما سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر معاشی، سلامتی کے علاوہ کریٹیکل منرلز کے شعبے میں مل کر کام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے