امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا ایران کے اندر ممکنہ طویل زمینی فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع ایسے ممکنہ منصوبوں پر کام کر رہا ہے جن میں ایران کے ساحلی علاقوں، خصوصاً جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کے قریب مقامات پر اسپیشل آپریشنز فورسز کے ذریعے چھاپہ مار کارروائیاں شامل ہو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان ابتدائی منصوبوں میں زمینی دستوں اور خصوصی یونٹس کے محدود آپریشنز کا امکان بھی زیر غور ہے، تاہم امریکی صدر کی جانب سے تاحال کسی حتمی تعیناتی کی منظوری نہیں دی گئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہداف زمینی افواج کے بغیر بھی حاصل کر سکتا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق دفاعی اداروں میں منصوبہ بندی کا عمل بدستور جاری ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق یہ کوئی فوری یا ہنگامی منصوبہ بندی نہیں بلکہ پہلے سے تیار کیا گیا ایک آپریشنل فریم ورک ہے۔
ادھر رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر امریکی میرینز کی تعیناتی کی گئی ہے جبکہ 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے ہزاروں فوجیوں کی ممکنہ تعیناتی کے لیے بھی تیاری جاری ہے۔
