کینیڈا میں 1000 ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کی موجودگی کا انکشاف:امریکی رپورٹ

Spread the love

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے مبینہ طور پر منسلک عناصر کی موجودگی پر سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن کی تعداد تقریباً ایک ہزار تک ہونے کا اندازہ بعض حلقے لگاتے ہیں۔

سیاسی اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ معاملہ کینیڈا کی امیگریشن پالیسیوں اور قومی سلامتی کے نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ حزبِ اختلاف کی نائب رہنما اور امیگریشن امور کی شیڈو وزیر میشیل ریمبل گارنر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہی، اور یہ صورتحال نہ صرف کینیڈا بلکہ اس کے اتحادیوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض افراد مبینہ طور پر کینیڈا کی نرم امیگریشن پالیسیوں سے فائدہ اٹھا کر داخل ہوئے اور بعد میں پناہ کی درخواستیں دائر کیں، جس سے انہیں ملک بدر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس حوالے سے کچھ تجزیہ کاروں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران عالمی سطح پر خفیہ نیٹ ورکس رکھ سکتا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں ہے۔

یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد سکیورٹی خدشات بڑھ گئے، اگرچہ تفتیش میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کا تعلق کسی ریاستی نیٹ ورک سے تھا یا نہیں۔

کینیڈین بارڈر سروس ایجنسی کے مطابق بعض ایرانی سابق حکام کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے ممکنہ ملک بدری کے کیسز زیر غور ہیں، جبکہ حکومت نے 2022 کے بعد سے ایرانی حکام سے منسلک افراد پر ویزا پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِ عوامی تحفظ نے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک عناصر کی موجودگی کے اعداد و شمار ابھی تک حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئے، جبکہ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں حتمی کارروائی قانونی شواہد کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے