ایک تازہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سونگھنے کی حس میں کمی الزائمر جیسے مرض کی ابتدائی اور اہم ترین علامت ہو سکتی ہے، اور یہ مسئلہ یادداشت میں واضح خرابی سے بھی پہلے ظاہر ہو سکتا ہے۔
جرمنی کے تحقیقی ادارے اور لُڈوگ میکسیمیلیئن یونیورسٹی میونخ کے سائنسدانوں کی مشترکہ تحقیق کے مطابق دماغ کا مدافعتی نظام اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ نظام غلطی سے ان اعصابی ریشوں پر حملہ کر دیتا ہے جو سونگھنے کی حس کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
جرنل “نیچر کمیونیکیشنز” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں چوہوں اور انسانوں دونوں سے حاصل کردہ شواہد شامل کیے گئے ہیں، جن میں دماغی بافتوں کے تجزیے اور پی ای ٹی اسکیننگ کے نتائج بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت الزائمر کی ابتدائی تشخیص اور ممکنہ علاج کے نئے امکانات پیدا کر سکتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ دماغی مدافعتی خلیات (مائیکروگلیا) کا وہ عمل ہے جس میں وہ اولفیکٹری بلب اور لوکس سیریولیس کے درمیان اعصابی رابطوں کو متاثر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
